انوارالعلوم (جلد 3) — Page 426
م جلد ۳ ۴۲۶ متفرق امور اٹھاؤ اور اپنے دین کو مضبوط کرو۔لیکن اگر کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا تو اسکی ایسی ہی مثال ہے ایک جنگل میں کھانے اور پانی کے لئے تڑپ تڑپ کر جان تو ڑ رہا ہو حالانکہ کھانا اور پانی اس کے پاس رکھا ہو ایسا انسان واقعہ میں سخت بد قسمت ہے۔اگر کوئی ہم سے اپنے شکوک کا ازالہ کروانے کی کوشش کرے۔پھر خواہ وہ دور نہ ہوں وہ قیامت کے دن کہہ سکتا ہے کہ اے خدا میں تیرے مقرر کردہ خلیفہ کے پاس ان شکوک کو لے کر گیا تھا مگر وہاں بھی دور نہ ہو سکے۔لیکن جو شخص بجائے میرے پاس آنے کے ایسے لوگوں سے ازالہ چاہتا ہے۔جو ان کے دور کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے وہ حق سے اور زیادہ دور ہو جاتا ہے۔اس کو خدا تعالیٰ پوچھے گا کہ کیوں تم نے خلیفہ سے نہ پوچھا اور اس سے فائدہ نہ اٹھایا اس لئے آؤ اب تمہیں اسکی سزادی جائے۔پس اپنے ایمان کی فکر کرو۔اور ہر ایک بات کے متعلق مجھ سے پوچھو اسی میں تمہارا فائدہ ہے۔لے (نوٹ) یہاں پر نبوت مسیح موعود اسمہ احمد اور مسئلہ کفر کے متعلق سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے اصل الفاظ القول الفصل سے نقل کئے جاتے ہیں جن کو مولوی محمد احسن صاحب نے نہ صرف صادق بتایا تھا۔بلکہ انہیں سن کر اس قدر خوش ہوئے تھے کہ عوارض لاحقہ متعلقہ پیری و دیگر امراض کو بھی فراموش کر دیا تھا۔(مرتب کنندہ) نبوت مسیح موعود کے متعلق القول الفصل کے صفحہ ہم پر حضرت خلیفۃ المسیح تحریر فرماتے ہیں۔" میں پھر بڑے زور سے اعلان کرتا ہوں جیسا کہ پہلے متعدد بار اعلان کر چکا ہوں کہ میں مرزا صاحب کو نبی مانتا ہوں۔لیکن نہ ایسا کہ وہ نئی شریعت لائے ہیں۔اور نہ ایسا کہ ان کو آنحضرت کی اتباع کے بغیر نبوت ملی ہے اور ان معنوں سے آپ کو حقیقی نبی نہیں مانتا۔اگر حقیقی نبی کے یہ معنی ہوں کہ وہ نبی ہے یا نہیں۔تو میں کہوں گا کہ اگر حقیقی کے مقابلہ میں تعلمی یا بناوٹی یا اسمی نبی کو رکھا جائے تو میں آپ کو حقیقی نبی مانتا ہوں بناوٹی نقلی یا اسمی نہیں مانتا۔میں نبیوں کی تین اقسام مانتا ہوں۔ایک جو شریعت لانے والے ہیں۔دوسرے جو شریعت تو نہیں لاتے لیکن ان کو بلا واسطہ نبوت ملتی ہے۔اور کام وہ پہلی امت کا ہی کرتے ہیں۔جیسے سلیمان زکریا یحی صحیحم السلام اور ایک وہ جو نہ شریعت لاتے ہیں۔اور نہ ان کو بلا واسطہ نبوت ملتی ہے۔لیکن وہ پہلے نبی کی اتباع سے نبی ہوتے ہیں۔اور سوائے آنحضرت ﷺ کے کوئی نبی اس شان کا نہیں گذرا کہ اس کی اتباع میں ہی انسان نہیں بن جائے۔لہذا اس قسم کی نبوتہ صرف اس مکمل انسان کے اتباع میں ہی پائی جاسکتی تھی۔اس لئے پہلی امتوں میں اس کی نظیر نہیں۔اور اس امت میں سے بھی صرف مسیح موعود کو اس وقت تک یہ درجہ عطا ہوا ہے۔اسمہ احمد کے متعلق القول الفصل صفحہ ۳۱ پر تحریر فرماتے ہیں۔پس آنحضرت ا احمد تھے اور سب سے بڑے احمد تھے۔کیونکہ آپ سے بڑا کوئی مظہر صفت احمدیت کا نہیں ہوا۔لیکن آپ کا نام احمد نہ تھا۔اور ائمہ احمد کا مصداق مسیح موعود ہے۔ہاں آنحضرت ﷺ کی طرف بھی یہ پیشگوئی بوجہ آقا اور استاد ہونے کے اشارہ کرتی ہے۔" منکر حضرت مسیح موعود کے متعلق القول الفصل صفحہ ۳۳ پر آپ تحریر فرماتے ہیں۔دوسرا مسئلہ کفر ہے۔جس پر خواجہ صاحب نے بحث کی کو ہے۔اس مسئلہ پر میں خود حضرت مسیح موعود کی اپنی تحریر میں شائع کر چکا ہوں۔مزید تشریح کی ضرورت نہیں میرا وہی عقیدہ ہے اور جبکہ میں حضرت مرزا صاحب کی نبوت کی نسبت لکھ آیا ہوں کہ نبوت کے حقوق کے لحاظ سے وہ ایسی ہی نبوت ہے۔جیسے اور نبیوں کی۔صرف نبوت کے طریقوں میں فرق ہے۔پہلے انبیاء نے بلاواسطہ نبوت پائی اور آپ نے بالواسطہ پس جو حکم نبی کے انکار کے متعلق قرآن کریم میں ہے۔وہی مرزا صاحب کے منکر کی نسبت ہے قرآن کریم میں کہیں نہیں لکھا کہ یہ حکم فلاں فلاں قسم کے نبیوں کی نسبت ہے۔ہاں میں اس فرق کو ضرور تسلیم کرتا ہوں۔جو حضرت مسیح موعود نے تریاق القلوب میں لکھا ہے۔اور حقیقۃ الوحی میں اس کی مزید تشریح فرمائی ہے اور وہ یہ ہے کہ صاحب شریعت نبی چونکہ شریعت کے لانے والے ہوتے ہیں۔اس لئے ان کا انکار بلا واسطہ انسان کو کافر بنا دینا تھا۔لیکن ہمارے حضرت مسیح ) موعود کو چونکہ جو کچھ ملا ہے آنحضرت ﷺ کے طفیل اور آپ کے ذریعہ سے ملا ہے۔اس لئے آپ کا انکار بھی اسی واسطہ سے کفر ہوتا ہے یعنی آپ کا انکار آنحضرت ﷺ کا انکار ہے" کے یہ مکمل تقریر ۱ ۲ مارچ ۱۴ء کے الفضل میں چھپ چکی ہے۔(مرتب کنندہ)