انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 422

انوار العلوم جلد - ۴۲۲ حضرت مسیح موعود کو یہ کہا تھا کہ میرے رشتہ دار کہتے ہیں کہ ایک لڑکی کا تم نے قادیان میں نکاح کر دیا ہے۔تو دوسری لڑکی ہمیں دے دو۔اگر میں نے نہ دی تو وہ ناراض ہو جائیں گے۔آپ نے فرمایا ہاں دے دو۔لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ آپ کو یہ بھی علم تھا کہ جس لڑکے سے اس لڑکی کا نکاح ہوتا ہے وہ غیر احمدی ہے۔بعد میں جب آپ کو اس بات کا علم ہوا۔تو آپ نے ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ صاحبہ کو کہا کہ ڈاکٹر صاحب کو کہہ دیں کہ یہ نسبت انہوں نے کیوں کی ہے۔پھر فرمایا اچھا تم ابھی ان سے نہ کہنا میں حقیقۃ الوحی دوں گا وہ اس لڑکے کو پڑھنے کے لئے دی جائے اگر وہ اس کے بعد احمدی ہو جائے تو اس سے نکاح کیا جائے ورنہ نہیں۔مگر بعد میں آپ کو یہ بات یاد نہ رہی۔اس روایت کی حقیقت تو میں نے بیان کر دی ہے۔لیکن اس کے علاوہ ہمارے پاس ایسی گواہیاں موجود ہیں۔جو اس مسئلہ کو بالکل صاف کر دیتی ہیں۔چنانچہ ایک شخص فضل الرحمن نام ہیلان ضلع گجرات کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے حضرت مسیح موعود سے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار غیر احمدیوں کے ہاں اپنی لڑکی کا رشتہ کرنے کی اجازت مانگی لیکن آپ نے اجازت نہ دی۔آپ کی وفات کے بعد جب اس نے رشتہ کر دیا تو حضرت خلیفہ اول نے اس کو اپنی جماعت سے نکال دیا اور وہ وہاں کے احمدیوں کا امام تھا اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے روک دیا۔حضرت مولوی صاحب نے اپنی زندگی میں اسے داخل سلسلہ نہیں کیا۔اب میں نے اس کی درخواست تو به قبول کرلی ہے اور بیعت کرائی ہے۔پھر غیر احمدی کے جنازہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ فلاں غیر احمدی کا غیر احمدیوں کا جنازہ جنازہ حضرت مسیح موعود نے پڑھایا تھا۔ممکن ہے آپ نے کسی کی درخواست پر پڑھایا ہو۔لیکن کوئی خدا کی قسم کھا کر کہہ دے کہ میں نے حضرت مسیح موعود کو یہ کہا تھا کہ فلاں غیر احمدی فوت ہو گیا ہے آپ اس کا جنازہ پڑھ دیں۔اصل بات یہ ہے کہ آپ کو کہا گیا کہ فلاں کا جنازہ پڑھ دیں۔اور آپ نے یہ سمجھ کر کہ وہ احمد ی ہو گا پڑھ دیا۔اس طرح ہوا ہو گا۔میرے متعلق تو سب جانتے ہیں کہ میں کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں سمجھتا۔لیکن مجھے بھی اسی طرح کی ایک بات پیش آئی تھی۔اور وہ یہ کہ یہاں ایک طالب علم ہے اس نے مجھے کہا کہ میری والدہ فوت ہو گئی ہے اس کا جنازہ پڑھ دیں۔میں نے پڑھ دیا۔بعد میں معلوم ہوا کہ وہ غیر احمدی تھی۔وہ لڑکا مجھ سے اپنی والدہ کے لئے دعا بھی کراتا رہا کہ وہ