انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 418

م جلد ۳۰ ۴۱۸ متفرق ام نبوت کا دعویٰ کیا اور آپ عین محمد بن گئے۔بلکہ یہ کہ آنحضرت ا میں جو خوبیاں تھیں وہی آپ کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری سے آپ میں بھی آگئیں۔پس جہاں آنحضرت اور مسیح موعود مقابلہ پر آئیں گے۔وہاں رسول کریم آقا کے درجہ پر اور مسیح موعود خادم کے درجہ پر کھڑے ہوں گے۔اور جہاں الگ الگ نام لیا جائے گا۔وہاں حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ کے تمام کمالات حاصل کرنے کی وجہ سے عین محمد " بھی کہہ سکیں گے۔میں حیران ہو تا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کی ان تحریرات کے ہوتے ہوئے جن میں آپ نے اپنے درجہ کو صاف طور پر بیان فرما دیا ہے۔پھر کیوں دھوکا لگتا ہے۔پہلے علماء نے بھی لکھا ہے کہ مسیح موعود کا جھنڈا آنحضرت ا کے جھنڈے سے نیچے ہو گا۔اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ وائسرائے کے تخت پر بھی بادشاہ لکھا ہوتا ہے اور اس جگہ بچھایا جاتا ہے جہاں بادشاہ کا تخت ہو تا ہے۔مگر جہاں بادشاہ اور وائسرائے اکٹھے ہوں وہاں وائسرائے کا تخت نیچے رکھا جائے گا۔پس اس لحاظ سے کہ حضرت مسیح موعود نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ آنحضرت ا سے حاصل کیا۔آپ خادم ہیں اور آنحضرت ا آقا اور اس لحاظ سے کہ آپ نے آنحضرت کے تمام کمالات اخذ کرلئے عین محمد "۔اس بات پر اگر ساری دنیا بھی ہماری مخالف ہو اند ہے تمام جائے تو ہمیں اس کی کیا پرواہ ہے جبکہ حضرت مسیح موعود نے خود لکھ دیا ہے کہ۔آنچه وار است ہر نبی را جام داد آن جام را مرا به انبیاء گرچه بوده من بعرفان نہ کمترم زکی کم نیم زاں ہمہ برائے یقیں ہر کہ گوید دروغ بست نھیں که یعنی تمام نبیوں کو جو کچھ دیا گیا ہے۔وہ سب کچھ ملا کر مجھے دیا گیا ہے۔اس سے آنحضرت ی کی بلند شان معلوم ہوتی ہے۔کیونکہ آنحضرت ا تمام نبیوں کے جامع تھے۔تب ہی تو مسیح موعود بھی آپ کے ذریعہ تمام انبیاء کے کمالات کے جامع ہو گئے۔جَرِ اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ کے بھی یہی معنی ہیں کہ تمام انبیاء کے اصل جامع تو آنحضرت ا ہی تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود نے بھی اپنا سینہ آنحضرت ﷺ کی اتباع کی وجہ سے ایسا صاف کیا کہ آپ کی پوری تصویر اپنے اندر کھینچ لی۔اور دیکھنے والے کے لئے کوئی فرق نہیں رہا۔مگر پھر بھی آپ خادم اور آنحضرت ا آقا ہی ہیں۔نبوت مسیح موعود کے متعلق میرا یہی عقیدہ ہے اور اسی کو میں نے شائع کیا ہے۔اور اب