انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 403

انوار العلوم جلد ۲۳ بسم الله الرحمن الرحیم ۴۰۳ محمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم تقریر حضرت فضل عمر خلیفہ المسیح الثانی جو ۲۷ دسمبر ۱۹۱۷ء کے سالانہ جلسہ پر ہوئی ن و لقد فتنا ا اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولَهُ اما بَعْدُ فَاعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الم و أَحَسِبَ النَّاسُ أنْ تُتْرَكُوا اَنْ تَقُولُوا امَنَّا ) و هم الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَذِبِينَ أَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُونَ السَّاتِ أَنْ تَسْبِقُونَا ، سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ ، مَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ اللَّهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللهِ لَاتِ ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ، وَ مَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ ، إِنَّ اللهَ لغَنِيُّ عَنِ الْعَلَمِيْنَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيَاتِهِمْ وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ (العنکبوت ( تا ۸) میں نے قرآن کریم کی کچھ آیتیں آپ لوگوں کے سامنے پڑھی ہیں۔عام مسلمانوں میں رسول کریم سے بعد اور دوری کی وجہ سے قرآن کریم کی عظمت نہیں رہی اور اس وجہ سے انہوں نے عام طور پر سمجھ لیا ہے کہ قرآن کریم ایک جادو اور ٹونے کی کتاب ہے اس لئے جس طرح ایک مشرک اور بت پرست کچھ بنے بنائے لفظ اور گھڑے گھڑائے فقرے پڑھتا ہے اور نہیں جانتا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور نہیں سمجھتا کہ ان کے کہنے کی کیا غرض ہے اور ان الفاظ کا کیا مطلب ہے اسی طرح آج کل کے مسلمان کرتے ہیں۔انہوں نے سمجھ رکھا ہے کہ قرآن کریم جادو اور ٹونے کے لئے آیا تھا اس لئے اس کی کوئی آیت لکھ کر باندھ لینا یا عمدہ عمدہ غلافوں میں لپیٹ کر گھر میں رکھ چھوڑنا کافی ہے۔میں نے یہ آیات اس رنگ میں نہیں پڑھیں