انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 396

انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۹۶ پیغام صلح کے چند الزامات کی تردید ہے کہ مجھ سے اپنی رقم کے متعلق تسلی کر والے لیکن کسی کے ابتلاء میں آجانے کے خوف سے میں نے ایک کاپی میں اندراج کا بھی انتظام کر چھوڑا ہے جس پر دفتر محاسب کے دستخط ہوتے ہیں کہ ہمیں فلاں فلاں شخص کی طرف سے اس قدر روپیہ پہنچ گیا۔اور اس کے ذریعہ سے ہر ایک شخص اپنے مال کے متعلق جو میرے نام بھیجتا ہے تسلی کر سکتا ہے۔میں کسی کے مال کا بھو کا نہیں نہ خلافت کا بار کسی کے اموال کے لالچ سے میں نے اپنے سر اٹھایا ہے خلافت سے پہلے بھی لوگ مجھے نذریں دیتے تھے بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت زیادہ آسودگی سے گزارہ کرتا تھا کیونکہ اس وقت میرے ذمے کوئی بوجھ نہیں تھا اب کئی حاجتمندوں کی خبر گیری مجھے کرنی پڑتی ہے جن کی مدد انجمن نہیں کر سکتی۔میرے واقف جانتے ہیں کہ اس وقت میرے اخراجات اس وقت کی نسبت زیادہ وسیع ہوتے تھے میں تبلیغ کے لئے جاتا تھا اور کبھی میں نے ایک پیسہ کسی سے اپنے کرایہ وغیرہ کے لئے نہیں لیا۔بلکہ اگر کوئی کچھ دیتا تھا تو اسے یا تو واپس کر دیتا یا ان ساتھ کے مبلغین پر خرچ کر دیتا جن کا خرچ انجمن کے ذمہ ہو تا تھا اور سال بھر میں یہ رقم اچھی خاصی ہو جاتی تھی مجھ پر کبھی اس کا بوجھ نہیں ہوا تھا لیکن پچھلے سال بیماری کے لئے جو مجھے لاہور جانا پڑا تو اس کے اخراجات میں سے اب تک کچھ روپیہ میرے ذمہ باتی ہے اسی طرح میں اپنے گھر کے اخراجات کو دیکھتا ہوں کہ انہیں بھی آگے کی نسبت بہت تنگی میں رکھتا ہوں۔میں ہمیشہ خلافت سے پہلے علاوہ ان کے مقررہ خرچ کے خاص کپڑے وغیرہ بنوا کر دیتا رہتا تھا لیکن اس دن سے آج تک میں مقررہ خرچ کے علاوہ ان کو کچھ نہیں دے سکا حتی کہ ایک دن میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ تم نے مدت سے مجھے تحفہ کچھ نہیں دیا میں کوئی قیمتی چیز طلب نہیں کرتی بلکہ کوئی نہایت معمولی سی قیمت کی چیز میرے دل کو خوش کرنے کے لئے بنوادو میں نے ان کا عندیہ معلوم کرنے کے لئے کہا کہ بتلاؤ کیا بنوادوں اور میں نے معلوم کرنا چاہا کہ ان کی خواہش کہاں تک جاتی ہے تو انہوں نے یہ کہا کہ میں زیادہ نہیں مانگتی ایک سادہ انگوٹھی مجھے بنوار و یہ بات سن کر میرے دل نے مجھے شرمندہ کیا کہ بے شک دو سرے مستحقین کی خبر گیری کرنا بھی ثواب ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے لیکن وَ لِزَوجِگ عَلَيْكَ حَقٌّ کا بھی ارشاد ہے تیری بیوی کا بھی تجھ پر کچھ حق ہے۔غرض میں نہ صرف تمہارے اموال کے متعلق ممکن سے ممکن احتیاط برتا ہوں بلکہ جو کچھ مجھے خدا تعالیٰ دیتا ہے اس میں سے ایک متعد بہ حصہ مستحق امداد لوگوں پر خرچ کر دیتا ہوں اور مجھے اس بات سے بھی انکار نہیں جو