انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 393

انوار العلوم ۳۹۳ پیغام صلح کے چند الزامات کی تردید بھی کروایا اور قریباً اڑھائی ہزار روپیہ جمع ہوا لیکن چونکہ یہ زمین مکانات کے تو قابل نہ تھی صرف زراعت کے کام آسکتی تھی۔اور تھوڑی تھوڑی زمین پر زراعت کرنے والوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا تھا اس لئے اس طرف بہت کم لوگوں کی توجہ ہوئی اسے بھی لوگوں نے اپنی ضروریات کے لئے واپس لینا شروع کر دیا۔اور کل چار سو روپیہ باقی رہ گیا۔ادھر تو زمینداری کے لئے زمین خریدنے کے لئے لوگ تیار نہ تھے یا کم سے کم مجھ سے کسی نے درخواست نہیں کی بلکہ پہلا جمع شدہ روپیہ بھی واپس لے رہے تھے ادھر قادیان کے امن کا یہ حال تھا کہ بعض لوگ پے در پے شرارت کرتے اور فتنہ کھڑا کر رہے تھے۔اور اس میں اس زمین کی فروخت بھی ایک وجہ تھی اس لئے مجھے بہت فکر ہوئی کہ جس طرح ہو سکے یہ زمین واپس لی جائے اور میں نے یہ تجویز کی کہ اگر اس کے لئے یوں روپیہ جمع نہیں ہو سکتا تو ہم اپنی پہلی اراضی کا ایک حصہ یا کل جیسی ضرورت ہو گروی رکھ کر روپیہ حاصل کریں اور اس زمین کو چھڑوالیں۔چنانچہ اسی امید پر شیخ ممتاز احمد صاحب بیرسٹرایٹ لاء گورداسپور کو جو باوجود غیر احمدی ہونے کے مجھ سے اس قدر اخلاص اور شرافت رکھتے ہیں کہ تم غیر مبائعین سے ان کو نسبت دینا بھی میں انکی ہتک سمجھتا ہوں میں نے کہلا بھیجا کہ وہ اس سکھ سردار سے اس زمین کے متعلق سودا کریں اور کوشش کریں کہ رقم تحریر شدہ سے وہ کچھ کم کردیں کیونکہ جیسا کہ مجھے معتبر ذرائع سے معلوم ہوا تھا زمین کی اصل قیمت پندرہ ہزار تھی۔لیکن حق شفہ کے خوف سے اسکی قیمت پونے انیس ہزار لکھوائی گئی تھی۔اس گفتگو سے صرف اس قدر کامیابی ہوئی کہ خریدار زمین نے ساڑھے سات سو روپیہ کم کر کے اٹھارہ ہزار روپیہ پر زمین بلا مقدمہ واپس کر دینے کا وعدہ کیا۔اب میعاد شفعہ میں وقت تھوڑا رہ گیا تھا اور روپیہ کا اب تک کوئی انتظام نہ ہوا تھا اس لئے میں نے پھر شیخ مختار احمد صاحب بیرسٹرایٹ لاء کو کہلا بھیجا کہ وہ بھی کوشش کریں کہ ہماری جدی زمینوں کا کوئی حصہ رہن ہو جائے اور اسی روپیہ سے اس اراضی کی قیمت ادا کر دی جائے لیکن ان کو بھی اس کوشش میں کامیابی نہ ہوئی اور انہوں نے مجھے کہلا بھیجا کہ آپ کسی طرح چھ ہزار روپیہ کا بندو بست کر دیں میں بقیہ بارہ ہزار کچھ عرصہ کے لئے آپ کو قرض لے دوں گا چنانچہ اس تحریک پر میں نے پھر کوشش کی اور ایک تو والدہ صاحبہ کو تحریک کی کہ وہ اپنا زیور فروخت کر کے اس زمین کی خرید میں حصہ لیں چنانچہ گو والدہ صاحبہ نے وہ زیور بہ نیت حج رکھا ہوا تھا۔لیکن اس خیال سے کہ یہ ضرورت بھی ایک دینی ضرورت ہے اور اس امید پر کہ بعد میں آہستہ