انوارالعلوم (جلد 3) — Page 389
۳۸۹ پیغام صلح کے چند الزامات کی تردید پانی کی طرح بہا دینے میں دریغ نہیں رکھتی اور خدا تعالیٰ سے مجھے یقین ہے کہ یہ تنگی کی حالت بہت جلد جاتی رہے گی۔باقی رہا یہ سوال کہ ایسے وقت میں عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب کو کیوں سو روپیہ ماہوار پر سکول کا پرنسپل مقرر کیا گیا ہے تو بات یہ ہے کہ ہیڈ ماسٹر نے یہ تجویز میرے سامنے پیش کی تھی کہ پرنسپل کی ایک اسامی سکولوں میں ہوتی ہے اور اس کی ایڈ بھی ملتی ہے۔یہاں بشیر احمد صاحب کو اگر اس پر مقرر کر دیا جائے تو امید ہے کہ سکول کو بہت فائدہ ہوگا اور انتظام میں بھی تقویت ہو جائے گی لیکن میں نے ان کی اس تجویز کو منظور نہیں کیا اور یہی جواب دیا کہ اس وقت خرچ کی آگے ہی زیادتی ہو رہی ہے۔ایک ایسے خرچ کو بڑھانا جو خواہ مفید ہی ہو لیکن ضروری نہیں میں پسند نہیں کرتا۔اس کے بعد ہیڈ ماسٹر صاحب نے یہ تجویز کی کہ چونکہ میری صحت خراب رہتی ہے اس لئے میاں بشیر احمد صاحب کو ہیڈ ماسٹر مقرر کر دیا جائے اور مجھے کسی اور کام پر لگا دیا جائے یا مدرسہ میں ہی بحیثیت استاد کام لیا جائے تا بوجھ کی کمی سے میری صحت میں ترقی ہو لیکن میں نے اس بات سے بھی اس بناء پر انکار کر دیا کہ اگر انکو کام زیادہ ہے تو حسب قاعده مدارس استاد پورے رکھیں اور اپنے اتنے گھنٹے خالی رکھیں جتنے کہ سرکاری طور خالی رکھنے کا انکو حکم ہے (اس وقت وہ کمال دیانت داری اور اخلاص کی وجہ سے اپنی جان پر ظلم کر کے اس قدر گھنٹے پڑھاتے ہیں کہ انتظامی امور کا بار پڑکر ان کی صحت کو صدمہ پہنچ گیا) لیکن میں پسند نہیں کرتا کہ ایک سابق اور تجربہ کار کارکن کو درجہ میں کم کر کے اس کی جگہ اور شخص مقرر کر دیا جائے ہاں اگر استاد کی ضرورت ہے تو میاں بشیر احمد کو سکول میں لگا لیا جائے لیکن ان کے لئے کوئی نیا عہدہ نہ نکالا جائے اور اس بات کو میں نے بار بار دہرایا کہ ان کے لئے نیا عہدہ نہ نکالا جائے۔ہاں اگر واقعہ میں ضرورت ہو تو میں پسند کرتا ہوں کہ بجائے باہر کسی مقام پر ملازمت کرنے کے وہ یہیں رہیں۔اس پر ایک دوست نے ان دوستوں میں سے جن کے زیر غور یہ معاملہ تھا مجھے اطلاع دی کہ سکول میں اس وقت استاد کی ضرورت ہے اور اگر اجازت ہو تو ان کو سکول میں لگایا جائے جس پر میں نے اجازت دی اور سکول کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ گو اس وقت دوسری مدات میں تنگی ہے لیکن سکول میں نہیں ہے۔کیونکہ سکول میں اب اس قدر طلباء تعلیم پاتے ہیں کہ جن کی فیسوں اور سرکاری ایڈ سے جماعت کا چندہ ملکر اسکے اخراجات کے لئے کافی ہوتا ہے بلکہ بعض وقت ضرورت سے بڑھ جاتا ہے اور چونکہ اس میں سرکاری مدد ملتی ہے اس لئے اس کے سٹاف کو مضبوط رکھنا نہایت ضروری ہے اور پچھلے دنوں