انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 383

بسم الله الرحمن الرحیم ۳۸۳ پیغام صلح کے چند الزامات کی تردید محمده و فصلی علیٰ رسولہ الکریم پیغام صلح کے چند الزامات کی تردید ) حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے قلم مبارک سے ) ۱۰- ستمبر ۱۹۱۲ء آج مغرب کے قریب مجھے ایڈیٹر الفضل نے پیغام کا ایک تازہ پر چہ جس پر ایک دو جگہ نشان لگا ہوا تھا بھیجا یہ تو مجھے معلوم تھا کہ غیر مبالعین ہم پر طرح طرح کے الزامات لگانے کے عادی ہیں لیکن اس پرچہ کو پڑھ کر تو بہت ہی حیرت ہوئی۔ایک شخص مصطفیٰ خاں نامی نے اس قدر گالیوں اور بد زبانی سے کام لیا ہے کہ میں حیران ہوں کہ کیا شرافت اس شخص کے پاس بھی نہیں وہ مجھے جانور قرار دیتا ہے اور لکھتا ہے کہ اسے کسی چڑیا گھر میں یا عجائب گھر میں رکھنا چاہئے۔پھر میری کتاب حقیقۃ النبوۃ کے زمانہ، تصنیف کی طرف اشارہ کر کے لکھتا ہے کہ تعجیل کار شیاطین بود اور اس طرح مجھے شیطان بتاتا ہے۔اس طرح کے اور بہت سے حملے اس نے کئے ہیں۔میں حیران ہوں کہ یہ لوگ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ آخر میں ایک جماعت کا امام ہوں اور وہ مجھے خلیفہ یقین کرتی ہے۔کیا اسی قسم کے لفظ اگر شیعہ حضرت ابو بکر کی نسبت استعمال کریں تو وہ اسے جائز رکھیں گے۔اور اس پر اظہار ناراضگی نہ کریں گے اگر کہیں کہ وہ خلیفہ برحق تھے۔تو میں کہتا ہوں کہ شیعوں کے نزدیک تو خلیفہ بر حق نہیں۔اگر ان لوگوں کے لئے جو کسی خلیفہ کو خلیفہ نہ سمجھیں۔اسے گالیاں دینا جائز ہوتا ہے۔تو پھر کیوں شیعوں کا حضرت ابو بکر کو گالیاں دینا جائز نہیں۔تمہارے جی میں جو حملے آئیں کرو لیکن گالیوں سے تو بچو کہ خود یہ تمہارے اخلاق کو بگاڑ دیں گی اور تم عذاب الہی میں گرفتار ہو جاؤ گے۔مولوی محمد علی صاحب تو خلیفہ نہیں۔نہ کسی جماعت کے امام- ایک انجمن کے پریذیڈنٹ ہیں جن کو امیر کا نام دے دیا گیا ہے لیکن کیا تم