انوارالعلوم (جلد 3) — Page 365
م جلد ۳۰ ۳۶۵ سیرت مسیح موعود ان آپ کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور چہرہ سے نوز ٹپکتا تھا اور نہایت پر رعب ہیبت تھی اور ایسا معلوم ہو تا تھا جیسے غنودگی کے عالم میں ہیں۔یہ تقریر ایسی لطیف اور اس کی زبان ایسی بے مثل ہے کہ بڑے بڑے عربی دان اس کی نظیر لانے سے قاصر ہیں اور اس کے اندر ایسے ایسے حقائق و معارف بیان ہوئے ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے یہ تقریر خطبہ الہامیہ کے نام سے چھپ کر شائع ہو چکی ہے اور سب کی سب عربی زبان میں ہے۔اس زمانہ میں آپ نے اپنی جماعت کو عربی سکھانے کے لئے ایک نہایت لطیف تجویز فرمائی جو یہ تھی کہ نہایت فصیح اور آسان عبارت میں کچھ جملے بنائے جنہیں لوگ یاد کر لیں اور اس طرح آہستہ آہستہ ان کو عربی زبان پر عبور حاصل ہو جائے۔اور ان فقرات میں یہ خوبی رکھی گئی تھی کہ وہ ایسے امور کے متعلق ہوتے تھے جن سے انسان کو روز مرہ کام پڑتا ہے اور جن میں ایسی اشیاء کے اسماء اور ایسے فعل استعمال کئے جاتے تھے جو انسان روز مرہ بولتا ہے۔کچھ اسباق اس سلسلہ کے نکلے لیکن بعد میں بعض زیادہ ضروری امور کی وجہ سے یہ سلسلہ رہ گیا۔تاہم آپ اپنی جماعت کے واسطے ایک راہ نکال گئے جس پر چل کر کامیابی ہو سکتی ہے۔آپ کا منشاء یہ تھا کہ ہر ایک ملک کی اصل زبان کے علاوہ عربی زبان بھی مسلمانوں کے واسطے مادری زبان ہی کی طرح ہو جائے اور عورت مرد سب اسے سیکھیں تاکہ آئندہ نسلوں کے لئے اس کا سیکھنا آسان ہو اور بچے بچپن میں ہی اپنی مادری زبان کے علاوہ عربی زبان سیکھ لیں اور یہ ارادہ تھا جس کے پورا ہوئے بغیر اسلام اپنی جڑوں پر پوری طرح نہیں کھڑا ہو سکتا۔کیونکہ جو قوم اپنی دینی زبان نہیں جانتی وہ کبھی اپنے دین سے واقف نہیں ہو سکتی۔اور جو قوم اپنے دین سے واقف نہیں وہ کبھی اپنے دشمنان دین کے حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکتی اور جو قومیں دین سے واقف ہونے کے لئے صرف ترجموں پر قناعت کرتی ہیں وہ نہ دین سے واقف رہتی ہیں نہ ان کی کتاب سلامت رہتی ہے۔کیونکہ ترجمہ آہستہ آہستہ لوگوں کو اصل کتاب کے مطالعہ سے غافل کر دیتا ہے اور چونکہ ترجمہ اصل کتاب کا قائم مقام نہیں ہو سکتا اس لئے آخر کار وہ جماعت کہیں سے کہیں نکل جاتی ہے۔آپ کے اس ارادہ کو پورا کرنے کی طرف آپ کی جماعت کی توجہ لگی ہوئی ہے۔اور انشاء اللہ تعالی ایک دن کامیابی ہو جائے گی۔اس سال حضرت مسیح موعود نے بعض پیش گوئیوں کی بناء پر کہ مسیح دمشق کے مشرق کی جانب ایک سفید منارہ سے اترے گا ایک منارہ کی بنیاد رکھی تاکہ وہ پیش گوئی لفظ بھی پوری ہو