انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 333

العلوم جلد۔٣٣٣ میرت مسیح موعود مقرر کیا گیا۔کہتے ہیں کہ قادیان اس نے آباد کیا اور اس کا نام اسلام پور قاضی رکھا جو بدلتے بدلتے قادیان کے ہو گیا۔کئی پشتوں تک یہ خاندان شاہی عہد حکومت میں معزز عہدوں پر ممتاز رہا اور محض سکھوں کے عروج کے زمانہ میں یہ افلاس کی حالت میں ہو گیا تھا۔گل محمد اور اس کا بیٹا عطا محمد رام گڑھیہ اور کنھیہ مسلوں سے جن کے قبضے میں قادیان کے گرد و نواح کا علاقہ تھا ہمیشہ لڑتے رہے۔آخر کار اپنی تمام جاگیر کو کھو کر عطا محمد بیگووال میں سردار فتح سنگھ اہلو والیہ کی پناہ میں چلا گیا اور ۱۲ سال تک امن و امان سے زندگی بسر کی۔اس کی وفات پر رنجیت سنگھ نے جو رام گڑھیہ مسل کی تمام جاگیر پر قابض ہو گیا تھا غلام مرتضیٰ کو قادیان واپس بلا لیا۔اور اس کی و جدی جاگیر کا ایک بہت بڑا حصہ اسے واپس دے دیا۔اس پر غلام مرتضیٰ اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ کی فوج میں داخل ہوا اور کشمیر کی سرحد اور دوسرے مقامات پر قابل قدر خدمات انجام دیں۔نونہال سنگھ ، شیر سنگھ اور دربار لاہور کے دور دورے میں غلام مرتضی ہمیشہ فوجی خدمت پر مامور رہا۔۱۸۴۱ء میں یہ جرنیل ونچورا کے ساتھ منڈی اور کلو کی طرف بھیجا گیا اور ۱۸۴۳ء میں ایک پیادہ فوج کا کمیدان بنا کر پشاور روانہ کیا گیا۔ہزارہ کے مفسدے میں اس نے کار ہائے نمایاں کئے۔اور جب ۱۸۴۸ ء کی بغاوت ہوئی تو یہ اپنی سرکار کا نمک حلال رہا اور اس کی طرف سے لڑا۔اس موقعہ پر اس کے بھائی غلام محی الدین نے بھی اچھی خدمات کیں۔جب بھائی مہاراج سنگھ اپنی فوج لئے دیوان مولراج کی امداد کے لئے ملتان کی طرف جا رہا تھا تو غلام محی الدین اور دوسرے جاگیر داران لنگر خاں ساہیوال اور صاحب خاں ٹوانہ نے مسلمانوں کو بھڑکایا اور مصر صاحب دیال کی فوج کے ساتھ باغیوں سے مقابلہ کیا اور ان کو شکست فاش دی۔ان کو سوائے دریائے چناب کے کسی اور طرف بھاگنے کا راستہ نہ تھا جہاں چھ سو سے زیادہ آدمی ڈوب کر مر گئے۔الحاق کے موقع پر اس خاندان کی جاگیر ضبط کی گئی۔مگر ۷۰۰ روپیہ کی پنشن غلام مرتضیٰ اور اس کے بھائیوں کو عطا کی گئی۔اور قادیان اور اس کے گردو نواح کے مواضعات پر ان کے حقوق مالکا نہ رہے۔اس خاندان نے غدر ۱۸۵۷ء کے دوران میں بہت اچھی خدمات کیں۔غلام مرتضیٰ نے بہت سے آدمی بھرتی کئے اور اس کا بیٹا غلام قادر جنرل نکلسن صاحب بہادر کی فوج میں اس وقت تھا جب کہ افسر موصوف نے تریمو گھاٹ پر نمبر ۴۶ نیٹو انفنٹری کے باغیوں کو