انوارالعلوم (جلد 3) — Page 322
۳۳۲ نجات کی انوار العلوم جلد ۳۰ ہیں۔قربانی کا فائدہ تو اسی کو ہوتا ہے جو کرتا ہے نہ کسی اور کو یسوع مسیح کو قربانی کرنے والے تو یہود ہیں۔ان کی نسبت تو کہا جاتا ہے کہ وہ دوزخ میں جائیں گے۔اور عیسائی صاحبان کہتے ہیں کہ ان کی قربانی کی وجہ سے ہم نجات پا جائیں گے۔یسوع مسیح خدا کا بیٹا ہے۔عیسائیوں کا اس پر کوئی حق نہیں۔یہودی اس کو صلیب پر چڑھانے والے ہیں نہ کہ عیسائی اس لئے انہیں کو اس قربانی کا فائدہ ہونا چاہئے لیکن عیسائی صاحبان بالکل الٹی بات کہتے ہیں کہ ان کی موت پر ایمان لانے سے ہم نجات پا جائیں گے پس جو نجات کا طریق مسیحی صاحبان پیش کرتے ہیں وہ کسی طرح بھی درست نہیں ہو سکتا۔ہاں اسلام نے جو طریق بتایا ہے۔اس میں کسی قسم کا شریعت رحمت ہے نہ کہ لعنت شک و شبہ نہیں ہے۔میں نے بتایا ہے اسلام نے شریعت کے احکام اس لئے بیان کئے ہیں تا انسان ان پر چل کر آرام پائے اور مشکلات سے بیچ جائے اور یہ ایسے ہی ہیں جیسے کہ ریل والوں نے بنا دیا ہے کہ جو کوئی کسی سٹیشن پر وقت مقررہ شخص پر پہنچ کر جہاں کا ٹکٹ لے گا۔گاڑی پر سوار ہو کر وہاں ہی پہنچ جائے گا۔اب اگر کوئی روئے اور چلائے کہ یہ میرے لئے مصیبت ہے کہ میں ریل پر سوار ہو کر فلاں جگہ پہنچ جاؤں گا تو وہ بے وقوف ہے۔یہی بات شریعت کی ہے شریعت تو تب لعنت ہوتی جبکہ اس میں ایسے احکام ہوتے جو انسان کو دکھ اور تکلیف میں ڈال دیتے۔مگر اسلام میں کوئی ایسا حکم نہیں ہے جو انسان کے لئے بجائے نفع کے نقصان کا باعث ہو۔کیا چوری کرنا بہت عمدہ کام تھا۔جس سے منع کیا گیا ہے یا زنا کرنا بہت اچھا نعل تھا۔جس سے روکا گیا ہے۔یا جھوٹ بولنا بہت اچھی بات تھی جس سے باز رکھا گیا ہے۔ہر گز نہیں یہی حال تمام احکام کا ہے شریعت تو ایک ہدایت نامہ اور گائڈ بک ہے۔جن باتوں سے خدا تعالٰی نے منع فرمایا ہے۔اگر وہ خود ہی نہ بتا دیتا تو مدتوں کے تجربہ اور نقصان اٹھانے کے بعد لوگ اس نتیجہ پر پہنچتے کہ یہ باتیں بری ہیں۔انہیں نہیں کرنا چاہئے مگر خدا تعالیٰ نے انسانوں پر انعام کر کے خود بتا دیا۔افسوس! کہ عیسائی صاحبان نے خدا کے اس انعام کو لعنت قرار دے دیا مگر خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم کر کے شریعت کے قوانین اور احکام بطور گر کے بتا دیئے ہیں۔چونکہ انسان میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ ہر ایک بات کے متعلق خود نیک نتیجہ نکال لے۔اس لئے خود خدا نے بتا دیا اگر ایسا نہ ہو تا تو انسان بہت دکھ اور نقصان اٹھاتے اور وہ بعض ایسی باتوں کو کر بیٹھتے جن سے انہیں دکھ اور تکلیف کے علاوہ نقصان