انوارالعلوم (جلد 3) — Page 311
انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۱۱ نجات کی حقیقت نہیں ہو گا۔کہ اس کا کوئی دکھ یا تکلیف دور ہو جائے گی۔بلکہ اسے سکھ مل جائے گا۔پس پڑھنا اس لئے اچھا نہیں کہ انسان دکھ سے بچ جاتا ہے بلکہ اس لئے اچھا ہے کہ اس کی وجہ سے آرام حاصل ہوتا ہے۔پھر دیکھئے دنیا میں لوگ دولت جمع کرنے کے لئے بڑی بڑی کوششیں کرتے ہیں۔لیکن اگر کسی کو پیٹ بھر کر کھانے کو اور حسب ضرورت کپڑا پہنے کو مل جائے تو اس طرف سے اس کے لئے کوئی دکھ باقی نہیں رہتا۔لیکن کوئی اس بات پر قناعت نہیں کرتا۔کیوں؟ اس لئے کہ ہر ایک سمجھتا ہے زیادہ مال سے زیادہ آرام حاصل ہو گا۔تو انسان کی فطرت میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے پیدا کرنے والے نے (ابھی اسبات پر بحث نہیں کی کہ کونسا مذ ہب سچا ہے۔اس لئے کسی مذہب کا پیدا کرنے والا ہو) یہ بھی خواہش رکھ دی ہے کہ انسان آرام حاصل کرے۔چونکہ یہ بات ہر ایک انسان وہی قول حق ہے جس کی تائید میں خدا کا فعل ہے میں پائی جاتی ہے۔اس لئے معلوم ہوا ہے کہ یہ خدا کا فعل ہے اس کے ساتھ خدا کے قول کو پرکھ لو۔خدا نے آنکھیں پیدا کی ہیں کہ انسان دیکھا کرے۔لیکن اگر کوئی مذہب یہ کہے کہ آنکھوں سے نہیں بلکہ کانوں سے دیکھا کرو۔تو ہم فورا کہ دیں گے کہ یہ غلط بات ہے۔کیونکہ خدا نے دیکھنے کی طاقت آنکھوں میں رکھی ہے نہ کہ کانوں میں۔تو مذہب کی ہر ایک بات کے پر کھنے کے لئے خدا تعالیٰ کے فعل کو دیکھنا چاہئے۔جس قول (یعنی مذہب کے حکم کی فعل یعنی قانون قدرت تائید کرے۔اس کو قبول کر لینا چاہئے اور جس کی تردید کرے۔اسے غلط قرار دیکر چھوڑ دینا چاہئے۔اب ہم اس بات کو دیکھتے ہیں کہ جب فطرت حقہ کے مطابق کو نسامذ ہب ہے؟ خدا تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ رکھ دیا ہے کہ وہ نہ صرف دکھ سے بچنا چاہتا ہے۔بلکہ سکھ بھی حاصل کرنا چاہتا ہے تو جو مذہب ان دونوں باتوں کے متعلق جو احکام بیان کرتا ہے وہ انسان کی فطرت کے مطابق ہے۔اور جو صرف دکھ سے بچنے کے متعلق بتاتا ہے۔مگر آرام حاصل کرنے کی نسبت بالکل خاموش ہے۔وہ فطرت کے مطابق نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اس مذہب کا بیان کرنے والا فطرت انسان سے واقف نہیں ہے۔خدا نے جو طاقت انسان میں رکھی ہے۔اس کے لئے سامان بھی ضرور پیدا کئے ہیں۔مثلاً معدہ میں ہضم کرنے کی طاقت ہے تو خوراک بھی پیدا کی گئی ہے۔دیکھنے کے لئے آنکھیں ہیں تو روشنی بھی بنائی گئی ہے۔سننے کے لئے کان ہیں تو ہوا بھی رکھی گئی ہے۔اسی طرح روح میں بھی طاقتیں ہیں