انوارالعلوم (جلد 3) — Page 273
۲۷۳ اسلام اور دیگر مذاہب حقوق رکھے ہیں عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے خاوند کی امانت کو پوری طرح ادا کرے اس کے آرام اور اس کے سکھ کی فکر کرے اس کی مشکل کے وقت اس کی ممکنار ہو اس کی اولاد کی تربیت کرے اور اس کی ناشکری نہ کرے۔غرض یہ نہیں کیا کہ اگر مرد کے حقوق بیان کئے ہوں تو عورتوں کو ترک کر دیا ہو اور اگر عورت کے حقوق بیان کئے ہوں تو مرد کے حقوق کو نظر انداز کر دیا ہو یا دونوں کے حقوق بیان کئے ہوں لیکن ان میں افراط و تفریط سے کام لیا ہو۔بلکہ مرد و عورت کے تمام حقوق کو نہایت مناسب طور پر تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر بیان کیا ہے اور اس طرح اس عظیم الشان تعلق کو جو تمام انسانی ترقی کی جڑ ہے ایسی مضبوط چٹان پر قائم کر دیا ہے کہ کوئی آندھی اور کوئی طوفان اس کو ہلا نہیں سکتا۔ان نہایت ہی قریبی رشتہ داروں کے علاوہ جن دیگر رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کے حقوق اوپر بیان ہوئے دیگر رشتہ داروں کو بھی اسلام نے فراموش نہیں کیا چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاتِ ذَا الْقُربى حقه (الروم : (۳۹) یعنی جو تمہارے قریبی اور رشتہ دار ہیں ان کو ان کا حق ادا کرو۔اس حکم کے ذریعہ نہ صرف رشته داروں کے ساتھ نیک تعلقات کے قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے بلکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ حقدار ہیں کہ ان کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے اور ان سے نیک سلوک کرنا گویا ان کا حق ادا کرنا ہے۔حق کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ رشتہ داروں کو بہت دفعہ ماں باپ یا خاوند کے نہ ہونے کی وجہ سے اولاد یا بیواؤں کی خبر گیری کرنی پڑتی ہے اور وہ بھی گویا ایک قسم کے ماں باپ ہی ہوتے ہیں کیونکہ ان کو وقت پر ماں باپ کا ہی کام کرنا پڑتا ہے۔اس لئے فرمایا کہ جب رشتہ داروں کے اوپر یہ حق رکھا گیا ہے کہ ضرورت کے وقت وہ ایک دوسرے کی اولاد کی کفالت کریں تو ان کا حق ہے کہ ان کے ساتھ خاص طور پر نیک سلوک کیا جائے۔اس حکم کے علاوہ اور بھی بہت سے احکام ہیں جن میں رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ایک دفعہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ کوئی ایسا عمل مجھے بتائیں جس سے میں جنت کا وارث ہو جاؤں فرمایا کہ وہ عمل یہ ہے کہ تو خدا کی عبادت کر اور اس کا شریک کسی کو نہ بنا اور نماز پڑھ اور زکوۃ دے اور رشتہ داروں سے یک سلوک کر۔(بخاری کتاب الزکوۃ باب وجوب الزكوة )