انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 272

العلوم جلد ۳ اسلام اور دیگر مذاہب اللہ تعالی نے تمہاری ہی جنس سے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں پس تم کو یہ نہیں چاہئے کہ ان کو کوئی ادنی مخلوق سمجھ کر ان کو حقارت کی نظر سے دیکھو اور ان کے ساتھ درشتی یا سختی سے پیش آؤ۔اس کے علاوہ قرآن کریم میں مرد و عورت کے حقوق کے متعلق حکم ہے کہ وَلَهُنَّ مِثلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ، (البقرہ : (۲۲۹) یعنی عورتوں کو مردوں پر اسی قسم کے حقوق حاصل ہیں جس قسم کے مردوں کو عورتوں پر۔ہاں مردوں کو عورتوں پر انتظامی معاملات میں ایک درجہ عطا ہے یعنی گھر کا آخری فیصلہ مرد کے اختیار میں ہوتا ہے اور یہ حکم ایسا ہے کہ جس نے عورتوں کے حقوق کے متعلق جو افراط کی جاتی ہے اس کو مٹا دیا ہے بعض لوگ عورتوں کو معلقہ کے طور پر چھوڑ رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ نیک برتاؤ نہیں کرتے ان کے متعلق حکم دیا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا أَتَيْتُمُوهُنَّ (النساء : (۲۰) یعنی یہ نہ کرو کہ نہ ان سے نیک معاملہ کرو اور نہ ان کو آزاد کرو تا اس طرح ڈرا کر تم ان سے ان کا مال چھین لو۔اسی طرح حکم دیا کہ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء : (۲۰) عورتوں سے نہایت عمدہ معاملہ کرو۔پھر عورتوں کے حقوق کو پورا کرنے کے لئے اسلام ان کو اپنے خاوندوں کے مال میں سے اولاد ہونے کی صورت میں آٹھویں حصہ کا اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں چوتھے حصہ کا وارث قرار دیتا ہے اور پھر جس مال کی وہ مالک ہو جائیں اس پر انہی کا قبضہ قرار دیتا ہے نہ ان کے والدین یا خاوندوں کا۔قرآن کریم کے احکام کے علاوہ رسول کریم نے بھی اپنے عمل اور اپنی تاکیدات سے عورتوں کے حقوق نہایت تاکید کے ساتھ قائم کئے ہیں اور یہاں تک فرما دیا کہ خَيْرُ كُمْ خَيْرُ كُمْ لا هله ابن ماجہ کتاب النکاح با حسن معاشرة النساء تم میں سے سب سے بہتر وہی انسان ہے جو اپنی بیوی سے سب سے بہتر سلوک کرتا ہے اسی طرح فرمایا کہ اے مسلمانو ! عورت کے متعلق میری یہ بات مانو کہ ان کے ساتھ نیک معاملہ کیا کرو تمہارا کوئی حق نہیں کہ اپنی بیویوں سے نیک سلوک کے سوا کسی اور قسم کا سلوک کرو سوائے اس کے کہ وہ ایسی بدی کریں جسے سب لوگ برا منائیں اور جو نہایت کھلی کھلی ہو۔اگر وہ کوئی ایسی بدی کریں تو کچھ دن اپنے سے علیحدہ کرو اگر مان لیں تو بہتر ورنہ ان کو کچھ بدنی سزا دو لیکن ایسی سزا نہ ہو کہ ان کے جسم پر اس سے نشان پڑ جائیں۔(ابن ماجبر كتاب النكاح باب حق المرأة على الزوج ) جس طرح اسلام نے مرد پر عورت کے کچھ حقوق رکھتے ہیں عورت پر بھی مرد کے کچھ