انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 271

العلوم جلد ۳۰ ۲۷۱ اسلام اور دیگر مذاہب کو مختلف مذاہب اس ترقی علوم کے زمانہ میں اس بات کے مدعی بیوی کے متعلق احکام ہیں کہ ان کا مذہب عورتوں کے حقوق کی دیگر سب مذاہب سے زیادہ خبر گیری کرتا ہے اور ان کے حقوق بیان کرتا ہے لیکن ان کا یہ دعوئی قابل توجہ نہیں کیونکہ کوئی مذہب ایسا نہیں جو عورتوں کے حقوق کو اپنے مذہب کی طرف سے پیش کرے بلکہ موجودہ زمانہ کی تمدنی حالت کے لحاظ سے اپنا دعویٰ پیش کیا جاتا ہے حالانکہ کسی خاص شخص یا خاص قوم کا عمل اس کے مذہب کو تعریف کا مستحق نہیں بنا سکتا جب تک کہ خود اس مذہب کی طرف سے وہ تعلیم نہ پیش کی گئی ہو اور ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کے سوا جس قدر دیگر مذاہب ہیں وہ باوجود سینکڑوں ہزاروں خوبیاں رکھنے کے بوجہ اس کے کہ صرف خاص زمانہ اور خاص قوم و کے لئے تھے عورت کے حقوق کے متعلق بہت حد تک خاموش ہیں چنانچہ اسلام سے سب سے قریب کا مذہب مسیحیت بھی عورت کے متعلق کوئی مشرح تعلیم نہیں دیتا اور یورپ کا طریق عمل مسیحیت کے لئے باعث فخر نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ مسیحیت کے حکم سے نہیں پیدا ہوا بلکہ علوم کی ترقی یا اسلام کی صحبت کا نتیجہ ہے۔ہاں اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے اپنی توجہ کو اس مظلوم فرقہ کے بلند کرنے کی طرف بھی کی ہے اور اپنی شفقت کو صرف کسی خاص گروہ کے ساتھ خاص نہیں کیا چنانچہ والدہ بیٹی اور بہن کے متعلق جو احکام اسلام نے دیئے ہیں وہ تو اوپر بیان ہو چکے ہیں۔اب ہم بیوی کے متعلق جو احکام اسلام نے دیئے ہیں ان کو بیان کرتے ہیں۔دیگر مذاہب میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے اس موضوع کو ہاتھ بھی نہیں لگایا اور جنہوں نے اس کے متعلق کچھ احکام بیان کئے ہیں وہ نہایت ناقص اور نامکمل ہیں اور آج سے سینکڑوں سال پہلے جب علوم و تمدن کی حالت گری ہوئی تھی اس وقت کے لئے تو بے شک عورتوں کو بعض شدید مظالم سے بچانے کے لئے کافی ہوں گے لیکن اب جبکہ تمام جہان میں ایک زندگی کی روح پھونکی گئی ہے ان پر عمل کر کے بیویوں کے حقوق کی کامل طور پر نگہداشت نہیں ہو سکتی اور صرف اسلام ہی کے احکام ایسے کامل ہیں کہ ان کے ذریعہ سے عورتوں کے حقوق ادا ہو سکتے ہیں عورتوں کے حقوق کے متعلق سب سے پہلا حکم جس کے ذریعہ سے اسلام عورتوں کو یک لخت پستی کی حالت سے بلند کر کے مرد کے برابر لا کھڑا کرتا ہے یہ ہے کہ عورت و مرد دونوں کو ایک ہی قسم کے اور ایک ہی جنس کے قرار دے کر برابر کے حقوق کا مستحق کر دیا ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اللهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ اَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا) النحل : (۷۳) یعنی