انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 268

PYA اسلام اور دیگر مذاہب جائیں گی اور اس میں ہماری ہتک ہے۔بعض اس خوف سے کہ کہیں بڑی ہو کر وہ کوئی گناہ نہ کر میٹھیں اور اس میں ہماری ذلت ہو ان کو قتل کر دیتے بعض بوجہ غربت کے بچوں کو ضائع کر دیتے کہ ان کو کھانا کون کھلائے گا۔چنانچہ ان دنوں میں کہ تعلیم میراں ہے بہت سے لوگ یورپ و امریکہ و ایشیاء کے ایسے ہیں جو ایسی تدابیر اختیار کرتے ہیں کہ جن سے اولاد نہ ہو اور یہ بھی ایک قسم اولاد کے ضائع کر دینے کی ہے۔جب ان سے پوچھا جائے تو کہتے ہیں کہ اس وقت تعلیم نہایت گراں ہے اولاد زیادہ ہوئی تو ان کو تعلیم دلانا مشکل ہو گا۔اسلام نے اس فعل کو سخت نا پسند فرمایا ہے اور فرماتا ہے کہ وَإِذَا المَوْدَةُ سُئِلَتْ بِاتِي ذَنْبٍ قُتِلَتْ الكور 19) جو لوگ اپنی لڑکیوں کو زندہ گاڑ دیتے ہیں ان سے سوال کیا جائے گا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا اور کس گناہ کی سزا میں کیا۔اسی طرح فرماتا ہے وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةً اِ مُلَاقِ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ ، إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطا كبيرا : ( بنی اسرائیل : ۳۲) یعنی اپنی اولاد کو اس ڈر سے نہ قتل کر دیا کرو کہ ہمارے مال ان کی تربیت اور تعلیم اور کھلانے اور پلانے پر خرچ ہوں گے کیونکہ تم کو بھی جو کچھ ملتا ہے ہمارے خزانہ سے ملتا ہے اور ان کو بھی ہم ہی دیں گے اور پھر اس شک کو دور کرنے کے لئے کہ کیا صرف مال کے فنا ہو جانے کے ڈر سے اولاد کو مارنا منع ہے یا اس کا کوئی اور باعث بھی ہو تب بھی منع ہے فرمایا کہ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خطا كبيرا اولاد کا مارنا ہی بڑا گناہ تھا یعنی مال کے فنا ہو جانے کے ڈر سے مارنا ہی گناہ نہیں بلکہ منع کرنے کا اصل باعث یہی ہے کہ اولاد کا قتل کرنا خواہ وہ کسی باعث سے ہو گناہ اور برا کام ہے اور اوپر جو وجہ بتائی گئی ہے صرف بطور ایک مثال کے ہے۔یہ تو اولاد کو قتل کرنے کے متعلق اسلام کی تعلیم ہے اس کے بعد وہ تعلیم ہے جس میں اولاد کی تعلیم و تربیت کے متعلق احکام ہیں۔پہلا حکم ان کی ولایت کے متعلق ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ اولاد کی کفالت والد کے ذمہ ہے اور اس طرح اولاد کو اس کی تباہی سے بچالیا گیا ہے جو اس وقت ان کو پیش آتی ہے جب بعض دفعہ والدین میں لڑائی ہو جانے کی وجہ سے بعض والد اولاد کا خرچ اس لئے ادا کرنے سے پہلو تہی کرتے ہیں کہ وہ اس والدہ کے بچہ ہیں جس سے وہ ناراض ہیں۔اس حکم کے ماتحت خواہ والد راضی ہو یا نہ ہو حکومت اسے مجبور کرے گی کہ وہ اپنے ذرائع آمد کے مطابق اولاد کو ان کے بلوغ تک خرچ