انوارالعلوم (جلد 3) — Page 267
انوار العلوم جای ۳۰ ۲۶۷ اسلام اور دیگر مذاہب جاتے ہیں۔اور نہ اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ والدین کو بالکل محروم رکھا جائے جیسا کہ بعض دیگر مذاہب کی تعلیم ہے بلکہ اسلام نے ان دونوں تعلیموں کے خلاف ایک میانہ راہ اختیار کی ہے اور وہ یہ کہ مرنے والے کے مال کے ایک حصہ کا وارث والدین کو قرار دیا ہے یعنی اگر اس کی اولاد ہو تو چھٹا چھٹا حصہ والدین کو دیا جائے اور اگر اولاد نہ ہو تو تیسرا حصہ والدہ کو اور باقی کل والد کو لیکن یہ صورت خاوند یا بیوی کے موجود ہونے کے ان کا حصہ نکال کر باقی اس کو ملے ماں باپ کا اولاد سے سلوک والدین سے جس سلوک کا اولاد کو حکم دیا ہے اسے تو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں اب دوسرے نمبر پر اس سلوک کا ذکر کرتے ہیں جس کا حکم والدین کو ان کی اولاد کے متعلق دیا گیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین کے دل میں اپنی اولاد سے طبعاً محبت ہوتی ہے اور انہیں اپنی اولاد سے نیک معاملہ کرنے کے متعلق کسی خاص حکم کی بظاہر ضرورت نہیں معلوم ہوتی لیکن تاریخ عالم ہمیں بتاتی ہے کہ اصل واقعہ یوں نہیں بلکہ باوجود اس فطرتی محبت کے جو والدین کو اپنی اولاد سے ہوتی ہے کئی وجوہ سے اس بات کی ضرورت ہے کہ والدین کو بھی اس بات کی ہدایت کی جائے کہ اپنی اولاد سے کیا سلوک کریں اور مختلف مذاہب کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس تعلیم سے خالی ہونے کی وجہ سے ان کے پیروان کو سخت دقتیں پیش آئی ہیں۔سوائے ایک ورثہ کے کہ اس کی ضرورت ہر ایک گھر میں پیش آتی تھی باقی امور کے متعلق دیگر مذاہب بالکل خاموش ہیں اور نہیں بتاتے کہ والدین کو اپنی اولاد سے کیسا معالمہ کرنا چاہئے۔لیکن اسلام چونکہ کامل اور آخری مذہب ہے اور تمام بنی نوع انسان کے لئے آیا ہے کہ اس نقص سے خالی ہے کیونکہ و ایسے زمانہ میں آیا جب بنی نوع انسان کی حالت چاہتی تھی کہ ان کو ایک ایسی شریعت دی جائے تو جو ہر رنگ میں کامل ہو اور جس میں انسانی معاملات کے تمام پہلوؤں کا لحاظ رکھا جائے۔اسلام سے جو پہلے مذاہب ہیں ان کو صرف اسی قدر تعلیم کی ضرورت تھی جو اس وقت کی ضروریات کے لئے کافی ہو اور جس کے ذریعے اس وقت کے لوگوں کو اِس کامل شریعت کے قبول کرنے 83۔کے لئے تیار کیا جائے جو بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے روز ازل سے مقدر تھی۔مختلف ممالک میں کسی نہ کسی سبب سے اولاد کے قتل کر دینے کا رواج تھا اور اولاد کا قتل بعض لوگ لڑکیوں کو اس لئے قتل کر دیتے تھے کہ وہ کسی اور گھر میں بیاہی