انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 253

رالعلوم جلد ۲۵۳ اسلام اور دیگر نے اجب لئے اسلام نے کونسی ایسی تدابیر اختیار کی ہیں کہ جن کی نظیر لانے سے اور سب مذاہب قاصر ہیں۔دوسرا حصہ شفقت على خلق الله ہے جیسا کہ میں اوپر بتا آیا ہوں اللہ تعالٰی سے بندے کا تعلق قائم کرنے کے علاوہ مذہب کا ایک اور بھی کام ہے اور وہ اپنے پیروان کو شفقت علی خلق اللہ کی تعلیم دیتا ہے چنانچہ پہلے حصہ - فارغ ہو کر میں اس کے متعلق اسلام کی تعلیم بیان کرتا ہوں۔شفقت علی خلق اللہ کے مضمون کے بڑے بڑے حصے تین ہیں اول انسان کا معالمہ اپنے نفس سے۔دوم انسان کا معاملہ دوسرے انسانوں سے۔سوم انسان کا معاملہ دوسرے حیوانوں سے چنانچہ ان تینوں حصوں میں سے سب سے پہلے میں اس مضمون پر کچھ بیان کرتا ہوں کہ اسلام نے انسان کو اپنے نفس کے ساتھ کیسا معاملہ کرنے کا حکم دیا ہے۔مختلف مذاہب نے بنی نوع انسان کے آپس کے سلوک انسان کا معاملہ اپنے نفس سے کے متعلق تو بہت کچھ کہا ہے لیکن اس کے متعلق کہ انسان کو اپنے نفس کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہئے بہت کم مذاہب میں کوئی تعلیم پائی جائے گی ا سوائے اسلام کے کہ اس نے اس امر پر بھی نہایت تشریح کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اور علاوہ ان روحانی طریقوں کے بتانے کے جن کے ذریعہ انسان خدائے تعالی تک پہنچ سکتا ہے انسان کو اس بات کی طرف بھی متوجہ فرمایا ہے کہ اسے اپنے نفس کے ساتھ کیسا معاملہ کرنا چاہئے اور یہ معاملہ ایسا ضروری اور زبردست ہے کہ اس پر روشنی ڈالے بغیر کوئی مذہب کامل نہیں ہو سکتا کیونکہ جب تک انسان کو یہ نہ بتایا جائے کہ وہ اپنے نفس سے کیسا معاملہ کرے تب تک اس کی کامل طور پر اصلاح نہیں ہو سکتی کیونکہ جسم کا روح پر بڑا اثر پڑتا ہے اور جسم کی مختلف حالتوں سے روح متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب کسی شخص کے جسم پر چوٹ آئے تو اس کی روح کو بھی اس سے سخت صدمہ پہنچتا ہے اور انسان کا دل مغموم ہو جاتا ہے اور بارہا ایسا ہوتا ہے کہ سخت چوٹ سے انسان کے حواس میں فرق آجاتا ہے اور کبھی سخت غم کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بدن گھلنے لگتا ہے اور انسان چند گھنٹوں کے اندر ضعیف ہو جاتا ہے چنانچہ