انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 222

رم جلد ۳۰ ۲۲۲ آئے گا۔تو ان انبیاء کی تمام صفات کو تفصیل دار لکھنے کے لئے دفتر کے دفتر چاہئیں تھے۔مثلاً خدا تعالیٰ نے انجیل میں فرمایا ہے کہ مسیح علیم تھا اور مثالوں میں باتیں کیا کرتا تھا۔تو بتایا جاتا کہ وہ جو مثیل مسیح ہو گا وہ بھی حلیم ہو گا اور مثالوں میں باتیں کرے گا۔اسی طرح ہر ایک نبی کی ہر ایک صفت کو بیان کر کے بتایا جاتا کہ یہ یہ اوصاف اس میں بھی ہوں گے اور اگر ہر ایک صفت کو بیان کر کے اس کو حضرت مسیح موعود کے متعلق بھی قرار نہ دے دیا جاتا تو یہ سمجھ لیا جاتا کہ باقی صفتیں ان میں نہیں ہیں کیونکہ ان کے متعلق مذکور نہیں ہو ئیں۔لیکن یہ ایک بہت طول طویل کام تھا مگر جب خدا تعالٰی نے ہر ایک نبی کا نام لے دیا اور بتا دیا کہ یہی دوبارہ آئے گا تو اس سے پتہ لگ گیا کہ اس میں جس قدر بھی صفات ہیں وہ سب کی سب بغیر کسی استثناء کے آنے والے میں ہوں گی۔اسی طرح اگر قرآن شریف میں آنحضرت کی تمام صفات کو بالتفصیل بیان فرما کر ان کو مسیح موعود کے لئے بھی بیان کیا جاتا تب یہ بات حاصل ہو سکتی تھی۔لیکن نام لے دینے سے نہایت وضاحت سے یہ بات پوری ہو گئی۔اور اگر حضرت کرشن یا حضرت بدھ یا حضرت مسیح یا آنحضرت ﷺ کی کوئی ایک صفت بیان کر دی جاتی اور اس کا حضرت مسیح موعود کے متعلق ذکر ہوتا لیکن ان کی اور صفات کا ذکر حضرت مسیح موعود کے متعلق نہ ہوتا۔تو لوگ کہتے کہ صرف یہی صفت مسیح موعود میں پائی جاتی ہے اور کوئی صفت نہیں پائی جاتی۔لیکن خدا تعالیٰ نے پہلے انبیاء کے نام رکھ دیئے تاکہ ان کی الگ الگ صفتیں نہ گنانی پڑیں۔اور انجیل کا مطالعہ کرنے والے جو جو خوبیاں حضرت مسیح میں پائیں وہی مسیح موعود کی تسلیم کریں۔اور قرآن شریف کے پڑھنے والے جو جو صفات آنحضرت ا کی دیکھیں دہی مسیح موعود کی قرار دیں۔اسی طرح دوسرے انبیاء کی کتابیں پڑھنے والے جو کوئی خوبی بھی ان میں پائیں وہی مسیح موعود میں سمجھ لیں۔تو خدا تعالیٰ نے ان انبیاء کے نام ہی حضرت مسیح موعود کے متعلق بول دیئے۔تاکہ ان کی تمام کی تمام صفتیں آپ میں سمجھی جائیں۔یہ دیا کہ نبی گا ہی یہ ہے کہ اگر یوں کہہ دیا جاتا کہ ایک نبی آئے گا تو خواہ اس کی کتنی ہی چوتھی حکمت تعریف کر دی جاتی پھر بھی اس کی اصل حقیقت نہ کھل سکتی۔کیونکہ جب تک کسی چیز کا نمونہ موجود نہ ہو اس وقت تک اس کی اصلیت معلوم نہیں ہو سکتی۔مثلاً ایسے لوگوں کو جنہوں نے قادیان کو نہیں دیکھا اس کا نام بتایا جائے تو کوئی یہ خیال کر لے گا کہ قادیان