انوارالعلوم (جلد 3) — Page 218
دم جلد ۳ ۲۱۸ انوار خلافت طرف منسوب کرتے ہیں۔سکندر بھی بناتے ہیں، رستم بھی بناتے ہیں ، افلاطون بھی بناتے ہیں حاتم بھی بناتے ہیں پس اس میں کون سی مشکل ہے کہ ایک ہی انسان کو پہلے نبیوں کے نام دیئے جائیں۔اگر ہم کسی کو حاتم کہتے ہیں تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہی حاتم جو مر چکا ہے دوبارہ آگیا ہے اس کی روح تناسخ کے طور پر اس میں آگئی ہے بلکہ یہ مراد ہوتی ہے کہ وہ بھی ایک بڑا سخی تھا اور یہ بھی ایک بڑا سخی ہے۔تو ایک آدمی میں بہت سی صفات اکٹھی ہو سکتی ہیں اور اس میں کوئی عجیب اور انوکھی بات نہیں ہے۔دیکھو آنحضرت ﷺ کو خدا تعالیٰ نے ان تمام صفات حسنہ سے جو انسانوں میں پائی جاتی ہیں متصف فرمایا ہے۔اس لئے آپ ابراہیم بھی ہیں نوح بھی ہیں موسیٰ بھی ہیں عیسی بھی ہیں اسماعیل بھی ہیں اسحاق بھی ہیں۔اور تمام انبیاء کے جامع ہیں۔اب بتاؤ۔آنحضرت ا جب ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے جامع تھے جیسا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے تو آپ میں سب کے نام اکٹھے تھے یا نہیں۔اگر نہیں تو یہ کہنا جھوٹ ہے کہ آپ سب نبیوں کے جامع تھے لیکن اگر جامع تھے۔یعنی آدم کے کمالات آپ میں پائے جاتے تھے تو آپ آدم تھے۔اگر نوح کے کمالات آپ میں پائے جاتے تھے تو آپ نوح تھے۔اگر ابراہیم کے کمالات آپ میں پائے جاتے تھے تو آپ ابراہیم تھے۔پس اگر کوئی یہ تسلیم کرتا ہے کہ آپ سب انبیاء کے جامع تھے۔اور سب انبیاء کی خوبیاں آپ میں تھیں تو اسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے نام بھی آپ کے نام تھے۔جو اس بات سے انکار کرتا ہے گویا وہ آپ کے جامع کمالات انبیاء ہونے سے بھی انکار کرتا ہے۔پس جبکہ آنحضرت کے اتنے ہی نام ہیں جتنے تمام انبیاء تھے۔تو یہ کون سے تعجب کی بات ہے۔اگر حضرت مسیح موعود نے کہا ہے کہ میں محمد ہوں میں کرشن ہوں میں بدھ ہوں۔یہ ایسا کھلا کھلا مسئلہ ہے کہ انسان تھوڑا سا غور کرے تو اس پر روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے اور اسے کچھ شک و شبہ نہیں رہ جاتا۔غرض میں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کچھ لوگوں نے آنا ہے اور ان کے آنے کے متعلق کچھ علامتیں مقرر ہیں جو اس وقت پوری ہو گئی ہیں اور جب علامتیں پوری ہو گئی ہیں تو کوئی ان کے آنے سے انکار نہیں کر سکتا۔حضرت کرشن کے متعلق جو پیشگوئیاں تھیں وہ پوری ہو گئی ہیں اور واقعات نے شہادت دے دی ہے اس لئے ان کے آنے کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔حضرت بدھ کی آمد کی نسبت جو خبریں اور علامتیں تھیں وہ پوری ہو گئی ہیں اس لئے کوئی نہیں کہہ سکتا