انوارالعلوم (جلد 3) — Page 207
العلوم جلد - ۳ ۲۰۷ پیدا ہو گئے جنہوں نے نبی کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے نشان نہ دیکھے تھے اس لئے ان میں بدیاں اور نقص پیدا ہو گئے۔جب خدا تعالٰی نے ان کی یہ حالت دیکھی تو ایک اور نبی بھیج دیا جس کے آنے پر ایک اور مذہب بن گیا۔غرض اسی طرح نبی پر نبی آنا شروع ہوا۔اور جماعت پر جماعت بنی شروع ہوئی۔اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہزاروں ہزار مذاہب دنیا پر موجود ہیں۔اور جو مٹ گئے ہیں ان کا کچھ پوچھو ہی نہ۔آج کل ایسی کتابیں بنی ہیں جن میں یہ دکھایا گیا ہے کہ آج تک کس قدر مذاہب ہوئے ہیں۔اس وقت تک ایک ایسی ہی کتاب کی بائیں جلدیں چھپی چکی ہیں اس میں عام طور پر ایک صفحہ سے زیادہ ایک مذہب کے حالات کے لئے نہیں دیا جا تا مگر پھر بھی بہت بڑی ضخیم کتاب بن گئی ہے۔غرض اس قدر مذاہب در حقیقت مختلف انبیاء کے ساری دنیا کے لئے ایک مذہب انکار کے نتیجہ میں پیدا ہو گئے ہیں۔نبی پر نبی آئے۔اور ہر نبی کے آنے پر ایک اور فرقہ پیدا ہو گیا۔جس سے اختلاف بڑھتا گیا اور بہت ہی بڑھ گیا حتی کہ خدا تعالیٰ نے جب دیکھا کہ انسان بے انتہاء فرقوں میں متفرق ہو گئے ہیں حق اور صداقت سے بہت دور چلے گئے ہیں ظلمت اور تاریکی میں بہت بڑھ گئے ہیں فسق و فجور میں بہت ترقی کر گئے ہیں عصیان اور طغیان میں حد سے گزر گئے ہیں تو اس نے اس طرف توجہ کی اور اس کی غیرت نے جوش مارا اور اس کی ربوبیت نے چاہا کہ جس طرح ابتداء میں دنیا میں ایک مذہب تھا اور اسی ایک پر ہی سب لوگ تھے پھر بھی ایسا ہی ہو۔اس کے لئے اس نے ایک ایسا نبی بھیجا جو تمام دنیا کے لئے تھا اور جو سب کو ایک کرنے آیا تھا اور وہ آنحضرت ا تھے۔خدا تعالیٰ نے چاہا کہ جس طرح وہ آسمان پر ایک ہے اسی طرح اس کے بندوں میں بھی ایک ہی رسول آئے جو تمام دنیا کو اس کی طرف بلائے۔چنانچہ ایک ایسا ہی نبی آیا۔لیکن سنت اللہ کے مطابق ضروری تھا کہ جس طرح اس سے پہلے آنے والے نبیوں کی مخالفت کی گئی اسی طرح اس کے کی بھی کی جائے۔اور مخالفت کا ہونا ضروری بھی ہے کیونکہ جب تک مخالفت نہ ہو صداقت اور حقانیت اچھی طرح نہیں کھلتی۔پس ضروری تھا کہ اس نبی کی مخالفت بھی ہو۔چنانچہ ہوئی اور بڑے زور سے ہوئی اس لئے ایک اور مذہب قائم ہو گیا۔لیکن اس نبی کے مبعوث کرنے سے جو خدا تعالی کا یہ منشاء تھا کہ تمام دنیا پر ایک مذہب ہو۔وہ زائل نہ ہوا خدا تعالٰی نے اس کے لئے یہ تجویز کی کہ آنحضرت ا ان کے ذریعہ اس کی ابتداء کی اور حضرت مسیح موعود علیہ