انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 203

انوار العلوم جلد ۳ انوار خلافت واقفیت پیدا کرو۔میں نہیں جانتا کہ یہ فتنے کس زمانہ میں ہوں گے لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ ہوں گے ضرور لیکن اگر تم قادیان آؤ گے اور بار بار آؤ گے تو ان فتنوں کے دور کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔پس تم اس بات کو خوب یاد رکھو اور اپنی نسلوں در نسلوں کو یاد کراؤ تاکہ اس زمانہ میں کامیاب ہو جاؤ۔صحابہ کی درد ناک تاریخ سے فائدہ اٹھاؤ اور وہ باتیں جو ان کے لئے مشکلات کا موجب ہوئی ہیں ان کے انسداد کی کوشش کرو۔فتنہ اور فساد پھیلانے والوں پر کبھی حسن ظنی نہ کرنا۔اور ان کی کسی بات پر تحقیق کئے بغیر اعتبار نہ کرلینا۔کیا اس وقت تم نے ایسے لوگوں سے نقصان نہیں اٹھایا ضرور اٹھایا ہے پس اب ہوشیار ہو جاؤ اور جہاں کوئی فتنہ دیکھو فورا اس کا علاج کرو۔توبہ اور استغفار پر بہت زور دیتا۔دیکھو اس وقت بھی کس طرح دھو کے دیئے جاتے ہیں۔ہمارے مخالفین میں سے ایک سرکردہ کا خط میر حامد شاہ صاحب کے پاس موجود ہے جس میں وہ انہیں لکھتے ہیں کہ نور دین اسلام کا خطرناک دشمن ہے اور انجمن پر حکومت کرنا چاہتا ہے۔شاہ صاحب تو چونکہ قادیان آنے جانے والے تھے اس لئے ان پر است خط کا کچھ اثر نہ ہوا۔لیکن اگر کوئی اور ہوتا جو قادیان نہ آیا کرتا تو وہ ضرور حضرت مولوی صاحب کے متعلق بدظنی کرتا۔اور کہتا کہ قادیان میں واقعی اندھیر پڑا ہوا ہے۔اسی طرح اور بہت سی باتیں ان لوگوں نے پھیلائی ہیں لیکن اس وقت تک خدا کے فضل سے انہیں کچھ کامیابی نہیں ہوئی۔لیکن تم اس بات کے ذمہ دار ہو کہ شریر اور فتنہ انگیز لوگوں کو کرید کرید کر نکالو اور ان کی شرارتوں کے روکنے کا انتظام کرو۔میں نے تمہیں خدا تعالٰی سے علم پا کر بتا دیا ہے اور میں ہی وہ پہلا شخص ہوں جس نے اس طرح تمام صحیح واقعات کو یکجا جمع کر کے تمہارے سامنے رکھ دیا ہے جن سے معلوم ہو جائے کہ پہلے خلیفوں کی خلافتیں اس طرح تباہ ہوئی تھیں۔پس تم میری نصیحتوں کو یاد رکھو۔تم پر خدا کے بڑے فضل ہیں اور تم اس کی برگزیدہ جماعت ہو۔اس لئے تمہارے لئے ضروری ہے کہ اپنے پیٹروؤں سے نصیحت پکڑو۔خدا تعالی قرآن شریف میں لوگوں پر افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ پہلی جماعتیں جو ہلاک ہوئی ہیں تم ان سے کیوں سبق نہیں لیتے۔تم بھی گزشتہ واقعات سے سبق لو۔میں نے جو واقعات بتائے ہیں وہ بڑی زبر دست اور معتبر تاریخوں کے واقعات ہیں جو بڑی تلاش اور کوشش سے جمع کئے گئے ہیں اور ان کا تلاش کرنا میرا فرض تھا کیونکہ خدا تعالٰی نے جبکہ مجھے خلافت کے منصب پر کھڑا کیا ہے تو مجھ پر واجب تھا کہ دیکھوں پہلے خلیفوں کے وقت کیا ہوا تھا اس کے لئے میں نے نہایت