انوارالعلوم (جلد 3) — Page 202
دم جلد۔p۔۲۰۲ انوار خلافت ابھی معاملات پوری طرح سمجھے نہ تھے کہ خوارج کے گروہ نے یہ مشورہ کیا کہ اس فتنہ کو اس طرح دور کرد کہ جس قدر بڑے آدمی ہیں ان کو قتل کر دو۔چنانچہ ان کے دلیر یہ اقرار کر کے نکلے کہ ان میں سے ایک حضرت علی کو ایک حضرت معاویہ کو اور ایک عمرو بن العاص کو ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں قتل کر دے گا۔جو حضرت معاویہ کی طرف گیا تھا اس نے تو حضرت معاویہ پر حملہ کیا لیکن اس کی تلوار ٹھیک نہیں لگی اور حضرت معاویہ صرف معمولی زخمی ہوئے۔وہ شخص پکڑا گیا اور بعد ازاں قتل کیا گیا۔جو عمرو بن العاص کو مارنے گیا تھا وہ بھی ناکام رہا۔کیونکہ وہ بوجہ بیماری نماز کے لئے نہ آئے جو شخص ان کو نماز پڑھانے کے لئے آیا تھا اس نے اس کو مار دیا اور خود پکڑا گیا اور بعد ازاں مارا گیا۔جو شخص حضرت علی کو مارنے کے لئے نکلا تھا اس نے جبکہ آپ صبح کی نماز کے لئے کھڑے ہونے لگے آپ پر حملہ کیا اور آپ خطرناک طور پر زخمی ہوئے آپ پر حملہ کرتے وقت اس شخص نے یہ الفاظ کہے کہ اے علی 1 تیرا حق نہیں کہ تیری ہر بات مانی جایا کرے بلکہ یہ حق صرف اللہ کو ہے (اب بھی غیر مبائعین ہم پر شرک کا الزام لگاتے ہیں) ان سب واقعات کو معلوم کر کے آپ لوگوں نے معلوم کر لیا ہو گا کہ یہ سب فتنہ انہی لوگوں کا اٹھایا ہوا تھا جو مدینہ میں نہیں آتے تھے۔اور حضرت عثمان سے واقفیت نہ رکھتے تھے آپ کے حالات نہ جانتے تھے ، آپ کے اخلاص ، آپ کے تقویٰ اور آپ کی طہارت سے نا واقف تھے آپ کی دیانت اور امانت سے بے خبر تھے۔چونکہ ان کو شریروں کی طرف سے یہ بتایا گیا کہ خلیفہ خائن ہے ، بد دیانت ہے، فضول خرچ ہے ، وغیرہ وغیرہ۔اس لئے وہ گھر بیٹھے ہی ان باتوں کو درست مان گئے اور فتنہ کے پھیلانے کا موجب ہوئے۔لیکن اگر وہ مدینہ میں آتے۔حضرت عثمان کی خدمت میں بیٹھتے آپ کے حالات اور خیالات سے واقف ہوتے تو کبھی ایسا نہ ہوتا جیسا کہ ہوا۔میں نے ان حالات کو بہت مختصر کر دیا ہے ورنہ یہ اتنے لمبے اور ایسے درد ناک ہیں کہ سننے والے کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پس یاد رکھو کہ یہ وہ فتنہ تھا جس نے مسلمانوں کے ۷۲ فرقے نہیں بلکہ ۷۲ ہزار فرقے بنا دیے۔مگر اسکی وجہ وہی ہے جو میں نے کئی دفعہ بتائی ہے کہ وہ لوگ مدینہ میں نہ آتے تھے۔ان باتوں کو خوب ذہن نشین کر لو کیونکہ تمہاری جماعت میں بھی ایسے فتنے ہوں گے جن کا علاج یہی ہے کہ تم بار بار قادیان آؤ اور صحیح صحیح حالات سے !