انوارالعلوم (جلد 3) — Page 198
لوم جلد ۳ ۱۹۸ انوار خلافت سے پہنچا۔کیونکہ اس صورت میں تمام اسلامی صوبوں کے آزاد ہو کر الگ الگ بادشاہتوں کے قیام کا اندیشہ تھا۔اور جو بات چار سو سال بعد ہوئی وہ اسی وقت ہو جانی ممکن ہی نہیں بلکہ یقینی تھی۔پس گو حضرت علی کا اس وقت بیعت لینا بعض مصالح کے ماتحت مناسب نہ تھا۔اور اس کی وجہ سے آپ پر بعض لوگوں نے شرارت سے اور بعض نے غلط فہمی سے یہ الزام لگایا کہ آپ نعوذ باللہ حضرت عثمان کے قتل میں شریک تھے اور یہ خطرہ آپ کے سامنے بیعت لینے سے پہلے حضرت ابن عباس نے بیان بھی کر دیا تھا اور آپ اسے خوب سمجھتے بھی تھے لیکن آپ نے اسلام کی خاطر اپنی شہرت و عزت کی کوئی پرواہ نہیں کی اور ایک بے نظیر قربانی کر کے اپنے آپ کو ہدف ملامت بنایا لیکن اسلام کو نقصان پہنچنے سے بچا لیا۔فجزاہ اللہ عناد عن جميع المسلمین۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں قاتلوں کے گروہ مختلف جہات میں پھیل گئے تھے اور اپنے آپ کو الزام سے بچانے کے لئے دوسروں پر الزام لگاتے تھے جب ان کو معلوم ہوا کہ حضرت علی نے مسلمانوں سے بیعت لے لی ہے تو ان کو آپ پر الزام لگانے کا عمدہ موقعہ مل گیا اور یہ بات درست بھی تھی کہ آپ کے ارد گرد حضرت عثمان کے قاتلوں میں سے کچھ لوگ جمع بھی ہو گئے تھے۔اس لئے ان کو الزام لگانے کا عمدہ موقعہ حاصل تھا چنانچہ ان میں سے جو جماعت مکہ کی طرف گئی تھی اس نے حضرت عائشہ کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ حضرت عثمان کے خون کا لینے کے لئے جہاد کا اعلان کریں چنانچہ انہوں نے اس بات کا اعلان کیا اور صحابہ کو اپنی مدد وہ کے لئے طلب کیا۔حضرت طلحہ اور زبیر نے حضرت علی کی بیعت اس شرط پر کرلی تھی کہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے جلد سے جلد بدلہ لیں گے انہوں نے جلدی کے جو معنی سمجھے تھے وہ حضرت علی کے نزدیک خلاف مصلحت تھی ان کا خیال تھا کہ پہلے تمام صوبوں کا انتظام ہو جائے پھر قاتلوں کو سزا دینے کی طرف توجہ کی جائے۔کیونکہ اول مقدم اسلام کی حفاظت ہے قاتلوں کے معاملہ میں دیر ہونے سے کوئی ہرج نہیں۔اسی طرح قاتلوں کی تعیین میں بھی اختلاف تھا جو لوگ نہایت افسردہ شکلیں بنا کر سب سے پہلے حضرت علی کے پاس پہنچ گئے تھے اور اسلام میں تفرقہ ہو جانے کا اندیشہ ظاہر کرتے تھے ان کی نسبت حضرت علی کو بالطبع شبہ نہ ہو تا تھا کہ یہ لوگ فساد کے بانی ہیں دوسرے لوگ ان پر شبہ کرتے تھے اس اختلاف کی وجہ سے طلحہ اور زبیر نے یہ سمجھا کہ حضرت علی اپنے عہد سے پھرتے ہیں۔چونکہ انہوں نے ایک شرط پر بیعت کی تھی اور وہ شرط ان کے خیال میں حضرت علی نے پوری نہ کی تھی اس لئے وہ شرعاً