انوارالعلوم (جلد 3) — Page 194
دم جلد r۔۱۹۴ انوار خلافت نے آپ سے وہ سلوک کیا کہ جو ہمیشہ کے لئے ان کے لئے باعث لعنت رہے گا۔اول تو انہوں نے اس فیچر کو بد کا دیا جس پر آپ سوار تھیں۔اور جب آپ نے کہا کہ حضرت عثمان کے پاس بنوامیہ کے بتائی اور بیواؤں کے اموال کے کاغذات ہیں۔ان کی وفات کے ساتھ ہی بتائی اور بیواؤں کے مال ضائع ہو جائیں گے۔اس کے لئے تو مجھے جانے دو کہ کوئی انتظام کروں تو انہوں نے کہا کہ تو جھوٹ بولتی ہے (نعوذ باللہ من ذالک) اور پھر تلوار مار کر آپ کی فیچر کا تنگ تو ڑ دیا اور قریب تھا کہ وہ اس انبوہ میں گر کر شہید ہو جائیں اور بے پردہ ہوتیں کہ بعض بچے مسلمانوں نے آگے بڑھ کر آپ کو سنبھالا اور حفاظت سے آپ کے گھر پہنچا دیا۔اس خبر کے پہنچتے ہی حضرت عائشہ حج کے لئے چل پڑیں اور جب بعض لوگوں نے آپ کو روکا کہ آپ کے یہاں رہنے سے شاید فساد میں کچھ کمی ہو تو انہوں نے کہا کہ اگر میرے بس میں ہو تا تو میں ہر طرح اس فساد کو روکتی۔لیکن کیا تم چاہتے ہو کہ میرے ساتھ بھی وہی سلوک ہو جو آنحضرت ﷺ کی دوسری بیوی ام حبیبہ کے ساتھ ہوا ہے اور اس وقت میرے بچانے والا بھی کوئی نہ ہو۔خدا کی قسم میں اپنے آپ کو ایسے خطرہ میں نہ ڈالوں گی کہ میرے ننگ و ناموس پر حرف آئے۔ان باغیوں نے جب دیکھا کہ ان کی طرف سے فساد کی کوئی راہ نہیں نکلتی تو آپ کے گھر پر پتھر مارنے شروع کئے تا کوئی ناراض ہو کر ان پر بھی حملہ کر دے تو ان کو عذر مل جائے کہ ہم پر حملہ کیا گیا تھا اس لئے ہم نے بھی حملہ کیا۔پتھروں کے پڑنے پر حضرت عثمان نے آواز دی کہ اے لوگو! خدا سے ڈرو دشمن تو تم میرے ہو۔اور اس گھر میں تو میرے سوا اور لوگ بھی ہیں ان کو کیوں تکلیف دیتے ہو۔ان بد بختوں نے جواب دیا کہ ہم پتھر نہیں مارتے یہ پتھر خداتعالی کی طرف سے تمہارے اعمال کے بدلے میں پڑ رہے ہیں۔آپ نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے تمہارے پھر تو کبھی ہمیں لگتے ہیں اور کبھی نہیں لگتے اور خدا تعالٰی کے پتھر تو خالی نہیں جایا کرتے وہ تو نشانہ پر ٹھیک بیٹھتے ہیں۔فساد کو اس قدر بڑھتا ہوا دیکھ کر حضرت عثمان نے چاہا کہ مدینہ کے لوگوں کو بیچ میں سے ہٹاؤں تاکہ میرے ساتھ یہ بھی تکلیف میں نہ پڑیں چنانچہ آپ نے حکم دیا کہ اے اہل مدینہ میں تم کو حکم دیتا ہوں کہ اپنے گھروں میں بیٹھ رہو اور میرے مکان کے پاس نہ آیا کرو اور میں تم کو قسم دیتا ہوں کہ میری اس بات کو مان لو۔اس پر وہ لوگ بادل نخواستہ اپنے گھروں کی طرف چلے گئے لیکن اس کے بعد چند نوجوانوں کو پہرہ کے لئے انہوں نے مقرر کر دیا۔حضرت عثمان نے جب صحابہ کی اس محبت کو دیکھا اور سمجھ لیا کہ اگر کوئی فساد ہوا تو صحابہ