انوارالعلوم (جلد 3) — Page 193
۱۹۳ العلوم جلد نہیں سکتا یہ قمیض خدا تعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے اسے تو میں ہرگز نہیں اتاروں گا۔مجھے اپنا قتل ہونا اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں خدا تعالی کی پہنائی ہوئی قمیض کو اتار دوں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑنے مرنے دوں۔باقی رہا قصاص کا معاملہ۔سو مجھ سے پہلے دونوں خلیفوں سے کبھی ان کے کاموں کے بدلہ میں قصاص نہیں لیا گیا۔باقی رہا یہ کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے سویاد رکھو کہ اگر وہ مجھے قتل کر دیں گے تو اس دن کے بعد سب مسلمان کبھی ایک مسجد میں نماز نہیں ادا کریں گے اور کبھی سب مسلمان مل کر ایک دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔اور نہ مسلمانوں کا اتحاد قائم رہے گا (چنانچہ تیرہ سو سال کے واقعات اس قول کی صداقت پر شہادت کی دے رہے ہیں)۔(تاریخ طبری جلد 4 صفحه ۲۹۹۰ مطبوعہ بیروت ) ۶ اس کے بعد مفسدوں نے حکم دے دیا کہ کوئی شخص نہ حضرت عثمان کے پاس جا سکے نہ اپنے مکان سے باہر نکل سکے۔چنانچہ جب یہ حکم دیا تو اس وقت ابن عباس اندر تھے جب انہوں نے نکلنا چاہا تو لوگوں نے ان کو باہر نکلنے کی اجازت نہ دی۔لیکن اتنے عرصہ میں محمد بن ابی بکر آگئے اور انہوں نے ان لوگوں سے کہا کہ ان کو جانے دو۔جس پر انہوں نے انہیں نکلنے کی اجازت دے دی۔اس کے بعد محاصرہ سخت ہو گیا اور کسی شخص کو اندر جانے کی اجازت نہ دی جاتی۔حتی کہ حضرت عثمان اور آپ کے گھر والوں کے لئے پانی تک لے جانے کی اجازت نہ تھی اور پیاس کی شدت سے وہ سخت تکلیف اٹھاتے تھے۔جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو ی اس پر حضرت عثمان نے اپنی دیوار پر چڑھ کر اپنے ایک ہمسایہ کے لڑکے کو حضرت علی، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اور امہات المومنین کے پاس بھیجا کہ ہمارے لئے پانی کا کوئی بندوبست کرو۔حضرت علی فورا پانی کی ایک مشک لے کر گئے لیکن ہر چند انہوں نے کوشش کی۔مفسدوں نے ان کو پانی پہنچانے یا اندر جانے کی اجازت نہ دی۔اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ کیا طریق ہے نہ مسلمانوں کا طریق ہے نہ کفار کا رومی اور ایرانی بھی اپنے دشمن کا کھانا اور پینا بند نہیں کرتے۔تم لوگوں کو خوف خدا بھی اس حرکت سے نہیں روکتا۔انہوں نے کہا کہ خواہ کچھ ہو اس کے پاس ایک قطرہ پانی نہیں پہنچنے دیں گے جس پر حضرت علی نے اپنی پگڑی حضرت عثمان کے گھر میں پھینک دی۔تا ان کو معلوم ہو جائے کہ آپ نے تو بہت کوشش کی لیکن لوگوں نے آپ تک انکو پہنچنے نہ دیا۔اسی طرح رسول کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام حبیبہ کو جب علم ہوا تو آپ بھی خلیفہ کی مدد کے لئے گھر سے تشریف لائیں لیکن ان بد بختوں رق