انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 167

196 انوار خلافت جیسی صفات رکھتے تھے۔لیکن صحابہ کے وقت کثرت کامل ایمان والوں کی تھی۔ہماری جماعت میں اس وقت خدا کے فضل سے کثرت ان لوگوں کی ہے جو حضرت مسیح موعود کی صحبت میں رہے اور قلت ان کی ہے جو بعد میں آئے لیکن یہ کثرت ایسی ہے جو دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔میرا مطلب اس تقریر سے یہ نہیں کہ نبی کے بعد اعلیٰ درجہ کے لوگ ہوتے ہی نہیں۔نہیں اعلیٰ درجہ کے لوگ ہوتے ہیں اور ضرور ہوتے ہیں جیسا کہ ابھی میں نے بعض آدمیوں کے نام لئے ہیں جنہوں نے صحابہ کے بعد بڑا درجہ حاصل کیا۔اپنی جماعت کے متعلق بھی آج ہی ایک شخص نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ کیا بعد میں آنے والے وہ درجہ پا سکتے ہیں جو حضرت مسیح موعود کی صحبت پانے والوں نے پایا۔تو میں نے اسے جواب دیا کہ ہاں وہ درجہ پا سکتے ہیں۔پس اس تقریر کا یہ مطلب نہیں کہ میں بعد میں آنے والے لوگوں کو مایوس کروں بلکہ میرا مطلب تمہیں اور ان کو ہوشیار کرنا ہے۔تمہیں اس لئے کہ تائم آنے والوں کی تعلیم کا فکر کرو اور انہیں اس لئے تا وہ جان لیں کہ ان کے راستہ میں بہت سی مشکلات ہیں وہ ان پر غالب آنے کی تدبیر کریں۔ورنہ یہ عقیدہ کہ نبی کی جماعت کے بعد کوئی ان کے درجہ کو پاہی نہیں سکتا ایک غلط اور باطل عقیدہ ہے جو جھوٹی محبت سے پیدا ہوا ہے۔صحابہ کے بعد بڑے بڑے مخدوم بڑے بڑے بزرگ اور بڑے بڑے اولیاء اللہ گزرے ہیں۔جن کی نسبت ہم ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ وہ سب کے سب ہر ایک اس شخص سے روحانیت میں ادنیٰ تھے جس نے رسول کریم کی صحبت خواہ ایک دن ہی پائی ہو۔اصل بات یہ ہے کہ وہ جو صحابہ میں اعلیٰ درجہ رکھتا ہے وہ ان بعد میں آنے والوں سے اعلیٰ ہے۔لیکن وہ جو ان میں ادنی ہے اس سے بعد میں آنے والوں کا اعلیٰ طبقہ اعلیٰ ہے۔ہاں سب صحابہ کو یہ ایک جزوی فضیلت حاصل ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کا چہرہ مبارک دیکھا جس کے لئے اب اگر کوئی ساری دنیا کی سلطنت بھی دینے کو تیار ہو جائے تو حاصل نہیں کر سکتا۔یہی بات حضرت مسیح موعود کے صحابہ کے متعلق ہے۔غرض وہ وقت آتا ہے کہ ایسے لوگ اس سلسلہ میں شامل ہوں گے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت نہ پائی ہوگی۔اور اس کثرت سے ہوں گے کہ ان کو ایک آدمی تقریر نہیں سنا سکے گا اس لئے اس وقت بہت سے مدرسوں کی ضرورت ہوگی۔اور پھر اس بات کی بھی ضرورت ہوگی کہ ایک شخص لاہور میں ایک امرتسر میں بیٹھا سنائے۔اور لوگوں کو دین سے