انوارالعلوم (جلد 3) — Page 100
١٠٠ لکہ صفت آئی ہے لیکن کثرت سے احمد کر کے پکارنا صاف دلالت کرتا ہے کہ خدا تعالی کے علم میں بھی آپ کا نام احمد تھا۔ورنہ تعجب ہے کہ آنحضرت اللہ کا نام احمد تھا۔لیکن اللہ تعالٰی نے ایک دفعہ بھی ان کو اس نام سے یاد نہ کیا۔اور حضرت مسیح موعود کا نام احمد نہ تھا بلکہ غلام احمد تھا لیکن احمد کے نام سے آپ کو بار بار پکارا گیا۔اور شاذ و نادر طور پر غلام احمد کے نام سے (وہ بھی جہاں تک مجھے یاد ہے غلام احمد کہہ کر آپ کو الہام میں کبھی مخاطب نہیں کیا گیا۔ہاں اس قسم کے الہامات میں کہ غلام احمد کی جے) یاد کیا۔اس سے یہ ثابت نہیں ہو تا کہ اللہ تعالٰی ہمیشہ نعوذ باللہ اصل نام کو ترک کر دیتا ہے اور دوسرے نام سے یا اس نام سے جس کا پیشگوئی میں ذکر نہ ہو انسان کو پکارتا ہے۔چاہئے تو یہ کہ اس نام سے پکارا جائے جس کا پیشگوئی میں خاص طور پر ذکر ہو تاکہ لوگوں کو اس طرف توجہ ہو۔پھر آپ کا نام احمد ہونے پر حضرت خلیفہ اول کی بھی شہادت ہے آپ اپنے ساتواں ثبوت رساله مبادی الصرف و النحو میں لکھتے ہیں کہ "محمد ال خاص نام ہمارے سید و موٹی خاتم العبتین کا ہے۔مکہ خاص شہر کا نام ہے جس میں ہمارے نبی کریم کا تولد ہوا۔احمد نام ہمارے اس امام کا ہے جو قادیان سے ظاہر ہوا اور حضرت خلیفہ اول تو وہ انسان تھے جن کی طہارت اور تقویٰ کے غیر مبائعین بھی قائل ہیں۔پھر کیونکر ہو سکتا ہے کہ آپ نے نعوذ باللہ جھوٹ بولا۔یا یہ کہ حضرت خلیفہ اول کو حضرت صاحب کا نام بھی معلوم نہ خود غیر مبالعین بلکہ ان کی متفقہ انجمن کا ہے۔اور اس شہادت سے زیادہ آٹھواں ثبوت غیر مبائعین کے لئے اور کونسی شہادت معتبر ہو سکتی ہے ؟ جو ان کی صدر انجمن نے دی ہے وہ شہادت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے الوصیت کے صفحہ ۸ پر لکھا ہے که اور چاہئے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں" (الوصیت من - روحانی خزائن جلد عنه ۲ ص۳۶ ) اس حکم کے ماتحت انجمن اشاعت اسلام لاہور کی طرف سے جو الفاظ بیعت شائع ہوئے ہیں ان کی عبارت یہ ہے: " آج میں محمد علی کے ہاتھ پر احمد کی بیعت میں داخل ہو کر اپنے تمام گناہوں سے تو بہ کرتا