انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 75

۷۵ کرتا ہوں کہ اب آپ اور بھی زیادہ جوش سے کام لیں گے۔میراخدامیرا مدد گار ہے۔جو کام اس نے میرے سپرد کیا ہے وہ اس کے پورا کرنے کے لئے خود ہی سامان پیدا کر دے گا اور مجھے یقین ہے کہ اگر زمین میری مد د نہ کرے گی تو آسمان میرا ہاتھ بٹائے گا اور اللہ تعالیٰ سعید روحوں کو خودالہام کردے گا کہ وہ میری آواز پر لبیک کہیں۔اس وقت دشمن کہہ رہا ہے کہ اب احمدیت گئی لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ آگے سے بھی زیادہ اسے ترقی دے اور اسلام کے شیداخوش ہو جائیں کہ اب خزاں کے بعد بہار آنے والی ہے اور مسیح موعود ؑکے وعدوں کے پورے ہونے کے دن آگئے ہیں۔خدا تعالیٰ اپنے مامور اور اس کے اول خلیفہ کی دعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا۔اور ضرور اسلام کی مصیبت کو دور کر دے گا۔پس اللہ تعالیٰ نے اس کام کو پورا کرنے کے لئے میرے دل میں ڈالا ہے کہ میں اب اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے خاص جدوجہد کروں۔اور میں نے فی الحال اندازہ لگایا ہے کہ اس کام کا ایک سال کا خرچ بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) روپیہ ہو گا میں نے روپیہ کے انتظام کیلئے ایک کمیٹی مقرر کی ہے جس میں مجلس معتمدین کے کل وہ ممبران شامل ہوں گے جو بیعت کر چکے ہیں اور ان کے علاوہ کچھ اور دوست بھی شامل کئے جائیں گے لیکن ان کے نام بعد میں شامل کروں گا۔اس انجمن کا کام اشاعت اسلام کے روپیہ کا انتظام کرنا اس کا حساب و کتاب رکھنا اور اشاعت اسلام پر اس روپیہ کو میری ہدایات کے ماتحت خرچ کرنا ہو گا۔زکوٰۃ کا روپیہ بھی اسی انجمن کے پاس جمع ہو گا۔اور میں اس انجمن کا سیکرٹری مولوی شیر علی صاحب بی اے کو مقرر کر تا ہوں۔انہیں کے دستخطوں سے روپیہ بھیجنے والوں کو رسیدیں ملیں گی۔اس انجمن کا نام ایک پرانی خواب کی بناء پر انجمن ترقی اسلام رکھا جاتا ہے۔میں نے بہت دعاؤں کے بعد اس بات کا اعلان کیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ میری دعاؤں کو ضرور قبول کرے گا اور خود اشاعت اسلام کے لئے سامان کر دے گا اور جو لوگ اس کام میں میرا ہاتھ بٹائیں گے ان پر خاص فضل فرمائے گا۔میرے دوستو ! بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) روپے سالانہ کی رقم بظاہر بہت معلوم ہوتی ہے۔لیکن جس رب نے مجھے اس کام پر مقرر کیا ہے اس کے سامنے کچھ بھی نہیں۔وہ بڑے خزانہ والا ہے۔وہ خود آپ لوگوں کے دل میں الہام کرے گا۔اور آپ ہی اسکے لئے سامان کر دے گا۔میں نے اس کام میں حصہ لینے والوں کے لئےبہت د عا کی ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ جو شخص جس جوش اوراخلاص سے آگے بڑھنے کا خدا تعالیٰ کا فضل بھی اسی مقدار میں اپنے ساتھ رکھے گا۔یہ مال و متاع اسی جگہ ره