انوارالعلوم (جلد 2) — Page 50
۵۰ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا ہے کہ قادیان کی زمین بابرکت ہے۔میں نے دیکھا کہ ایک شخص عبدالصمد کھڑا ہے اور کہتا ہے ’’مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت تم پر خلافت کی رحمتیں یا برکتیں نازل ہوتی ہیں‘‘۔یہ بالکلدرست ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کے مقامات دیکھنے سے ایک رقت پیدا ہوتی ہے اور دعا کی تحریک ہوتی ہے اس لئے قادیان میں زیادہ آنا چاہیے۔پھر دعاؤں کے لئے تعلق کی ضرورت ہے حضرت صاحب کو میں نے دیکھا ہے مگر حضرت خلیفۃ المسیح بچتے تھے اور میں خود بھی بچتا ہوں۔حضرت صاحب بعض لوگوں کو کہہ دیا کرتے تھے کہ تم ایک نذر مقرر کرو میں دعا کروں گا۔یہ طریق محض اس لئے اختیار کرتے تھے کہ تعلق بڑھے۔اس کے لئے حضرت صاحب نے بارہا ایک حکایت سنائی ہے کہ ایک بزرگ سے کوئی شخص دعا کرانے گیا اس کے مکان کا قبالہ گم ہو گیا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ میں دعا کروں گا مگر پہلے میرے لئے حلوہ لاؤ۔وہ شخص حیران تو ہوا مگر دعا کی ضرورت تھی حلوہ لینے چلا گیا اور حلوائی کی دکان سے حلوہ لیا۔وہ جب حلوہ ایک کاغذ میں ڈال کر دینے لگا تو وہ چلِّایا کہ اس کو پھاڑیو نہیں یہ تو میرے مکان کا قبالہ ہے اسی کے لئے وہ دعا کرانا چاہتا تھا۔غرض وہ حلوہ لے کر گیا اور بتایا کہ قبالہ مل گیا تو اس بزرگ نے کہا میری غرض حلوہ سے صرف یہ تھی کہ تعلق پیدا ہو۔غرض دعا کے لئے ایک تعلق کی ضرورت ہے اور میں اس کے لئے اتنا ہی کہتا ہوں کہ خطوط کے ذریعہ یاد دلاتے رہو تا کہ تم مجھے یاد رہو۔یُزَکِّیْھِمْ کے دوسرے معنیاب یُزَکِّیْھِم کے دوسرے معنی لو جس میں غرباء و مساکین کی خبر گیری داخل ہے۔لوگ یہ تو نہیں نہیں جانتے کہ میرے پاس ہے یا نہیں مگر جب وہ جانتے ہیں کہ میں خلیفہ ہو گیا ہوں تو حاجت مند تو آتے ہیں اور یہ سیدھی بات ہے کہ جو شخص کسی قوم کا سردار بنے گااس کے پاس حاجت مند تو آئیں گے اس لئے شریعت نے زکوٰۃ کا انتظام خلیفہ کے سپرد کیا ہے تمام زکوٰۃ اُس کے پاس آنی چاہیے تا کہ وہ حاجتمندوں کو دیتا رہے۔پس چونکہ یہ میرا ایک فرض اور کام ہے کہ میں کمزور لوگوں کی کمزوریوں کو دور کروں اس لئے تمہارا فرض ہونا چاہیے کہ اس میں میرے مددگار رہو۔ابھی تو جھگڑے ہی ختم نہیں ہوئے مگر پھر بھی کئی سَو کی درخواستیں آچکی ہیں جن کا مجھے انتظام کرنا پڑتا ہے جیسا کہ ابھی میں نے کہا ہے کہ یہ سلسلہ خلیفہ کے ذمہ رکھا ہے کہ ہر قسم کی کمزوریاں دور کرے خواہ