انوارالعلوم (جلد 2) — Page 608
۶۰۸ اوپر کے آیا ہوں اس سے نبوت میں اتناہی فرق پڑتا ہے جس قدر کسی آدمی کوسید یا پٹھان کہہ دینے سے اس کی آدمیت میں۔منہ ؎۱۰ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ درحقیقت آیت۔لَا یُظْہِرُ عَلَی غَیْبِہِ۔مین ان تینوں شرائط کا مفہوم آجاتا ہے جو میں نے اوپر بیان کی ہیں۔اور ان تینوں شرطوں کا ایک ہی شرط بھی قرار دے سکتے ہیں لیکن ہر ایک شخص کی سمجھ ایسی تیز نہیں ہوتی کہ وہ خود باریک باتوں کا استخراج کر لے۔اس لئے میں نے ہر شخص کے سمجھانے کے لئے تینوں باتوں کو الگ الگ بیان کر دیا ہے تا ہر شخص کو سمجھنے میں دقت نہ ہو۔ورنہ فَلَا یُظْہِرُ عَلَی غَیْبِہِ أَحَداً۔إِلَّا مَنِ ارْتَضَی مِن رَّسُولٍ۔کی آیت میں غلبہ علی الغیب کے معنے ہی یہ قرار دیئے ہیں کہ وہ اخبار انذار وتبشیر اپنے اندر رکھتے ہوں اور آیت۔اِلاَّ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ۔(الانعام:49)درحقیقت کوئی الگ شرط نہیں لگاتی بلکہ اسی آیت کی تفسیر ہے۔اور نبی کا نام خدا کی طرف سے رکھا جانا بھی اسی آیت سے ثابت ہے کیونکہ غیر نبی پر تو اﷲ تعالیٰ کثرت سے غیب ظاہر کرتا ہی نہیں جیسا کہ آیت مذکورہ بالا سے ثابت ہے۔اور جبکہ اﷲ تعالیٰ رسول کو رُسُلِہ میں اپنی طرف نسبت دیتا ہے تو یہ بات ہے کہ نام بھی وہ خود ہی رکھتا ہے۔ورنہ دوسرے اشخاص کو کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ فلاں شخص اب اس درجہ کو پہنچ گیاپس کثرت سے اظہار امور غیبیہ کا ہونا ایک ایسی شرط ہے جو درحقیقت ایک ہی شرط نبوت ہے۔اور دوسری دونوں شرطیں اسی کی تشریح ہیں۔گو قرآن کریم سے صاف طور پر ثابت ہیں اور ہم نے ان کو الگ اس لئے بیان کیا ہے تاہر شخص کی نظرتلے رہیں ورنہ خطرہ تھا کہ بعض لوگ انہیں نظرانداز کرکے ٹھوکر کھاتے۔منہ ۱۱۔حضرت مسیح موعود نے بعد میں خود محدث کے نام کو ترک کر دیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتاتو پربتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے اگر کہو اس کانام محدث رکھناچاہئے تو میں کہتا ہوں تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ( ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۹) اسی طرح فرمایا ہے کہ اس وقت تک اس امت میں کوئی اورشخص نبی کے نام پانےکا مستحق نہیں گزرا حالانکہ محدث گزرے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ حضور نے آئندہ اپنے آپ کو محدث سے بڑے درجہ والا قرار دیا ہے۔محموداحمد۔۱۲۔جزئی نبوت کا لفظ بھی حضرت نے ۱۹۰۰ء کے بعد سے ترک کردیا ہے۔محمود احمد ۱۳۔اس حوالہ سے بھی یہی ظاہر ہے کہ آپ نے شریعت والی نبوت کا انکار کیا ہے۔مرزامحمود احمد ۱۴۔اس حوالہ سے بھی ظاہر ہے کہ نبوت کی بعض اقسام کے بند ہونے کا حضرت مسیح موعود ذکر فرماتے ہیں نہ کہ نبوت بند ہونے کاکیونکہ خود فرماتے ہیں کہ مگر ایک قسم کی نبوت بند نہیں۔۱۵۔اس عبارت کابھی یہی مطلب ہے کہ حضرت کی نبوت سے مراد کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پاناہے۔مرزا محمود احمد ۱۶۔اس عبارت کو دیکھ کر غور کرلو کہ حوالے دینے میں مولوی صاحب نے کس دیانت سے کام لیا ہے وہ عبارت چھوڑہی گئے ہیں جس میں حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ اس کثرت مکالمہ کا نام خداتعالی کی اصطلاح میں نبوت ہے۔۱۷۔اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو نبوت براہ راست نہیں ملی۔نہ یہ کہ نبوت ہی نہیں ملی۔۱۸۔امتی نبی کے معنے آگے بتائے جائیں گے۔مرزا محمود احمد ۱۹۔ظلی نبی کے معنےآگے بتائے جائیں گے۔مرزا محمود احمد ۲۰۔اس حوالہ سے بھی صرف یہ مطلب نکلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت کی قسم کثرت مکالمہ والی ہے نہ کہ شریعت لانے والی نبوت مرزا محموداحمد۔۲۱۔اس حوالہ کا بھی یہی مطلب ہے کہ حضرت صاحب شریعت نہیں لائے کیونکہ حقیقی نبوت کے معنے خود آپ نے شریعت والی نبوت کئے ہیں۔مجازی نبوت کی تشریح آگے پوری طرح آجائے گی انشاء اللہ۔۲۲۔اس میں کیاشک ہے کہ حضرت مسیح موعود ایک لحاظ سے آنحضرت ﷺ کے بروز تھے اور ایک لحاظ سے آپ کے باغ کے ایک پھل تھے آنحضرت ﷺ کی امت میں لاکھوں آدمی گزرے ہیں جو نہایت نیک تھے پس تعداد کے لحاظ سے آپ باغ میں سے ایک پھل ہی تھے اور بارش میں سے ایک قطرہ اس سے یہ نتیجہ کس طرح نکلا کہ ا ٓپ نبی نہ تھے۔آ نحضرت ﷺ نے فرما یا کہ میں نبوت کے مکان کی آخری اینٹ ہوں تو کیا اس سے ثابت ہؤا کہ آپ چونکہ ایک اینٹ تھے اس لئے نبی نہ تھے۔درجہ کے لحاظ سے آپ نبوت کے مکان میں جس قدر اینٹیں تھیں سب سے افضل اور اعلیٰ تھے۔اور سب کے جامع تھے۔لیکن تعداد کے لحاظ سے آپ ہزاروں لاکھوں میں سے ایک تھے۔اسی طرح درجہ کے لحاظ سے مسیح موعود آنحضرت ﷺ کے بروز کامل تھے۔مگر اس لحاظ سے آنحضرت ﷺ کے طفیل کروڑوں آدمی اولیاء اﷲ ہوگئے۔آپ ان کے باغ کے ایک پھل اور بارش سے ایک قطرہ تھے۔مرزا محمود احمد۔۲۳۔اس کا جواب کہ صرف مسیح موعودنبی تھے یااور بھی افراد ایسے گزرے ہیں آگے آئے گا انشاءاللہ مگراس حوالہ سے بھی صرف یہ ظاہر