انوارالعلوم (جلد 2) — Page 599
۵۹۹ نہ اس لئے کہ ایک نبی دوسرے کی کامتبع نہیں ہوتا بلکہ اس لئے کہ اس سے یا مہر نبوت ٹوٹتی ہے یا حضرت مسیح کی ہتک ہوتی ہے۔اگر کہو کہ پہلے نبیوں کے ماتحت بھی تو مستقل ہی کام کرتے رہے ہیں اور آنحضرت اﷺکا ان سے بڑادر جہ ہے آپؐ کے ماتحت کیوں مستقل نبی کام نہیں کر سکتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے نبی خاتم النبیّن نہ تھے اس لئے ان کے بعد براہ راست نبوت پانے والے نبیوں کا آنان کی ہتک کا باعث نہ تھا مگر ہمارے آنحضرت ﷺخاتم النبیّن ہیں اس لئے آپ کی اس میں ہتک ہے آپ کی قوت فیضان ایسی ہے کہ آپ اپنے شاگردوں میں سے اعلیٰ درجہ کے انسان پیدا کر سکتے ہیں اور ضرورت نہیں کہ دوسرے نبیوں کو اپنی مدد کے لئے بلائیں۔(۳) یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ مانعنی من النبوة مايعني في الصحف الأولى سواس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات بالکل درست ہے پہلے مصحف میں نبوت سے مراد وہ نبوت ہوتی تھی جو براہ راست ملتی تھی کیونکہ وہ نبی بلاواسطہ نبی بنتے تھے لیکن آپ کی تحریروں میں جہاں نبی کا لفظ آیا ہے اس کے صرف یہ معنے ہیں کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے فیضان سے نبوت کا درجہ پایا ہے ورنہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے نبی کسی اور وجہ سے نبی کہلاتے تھے اور آپ اور وجہ سے۔نبوت کے لحاظ سے تو ایک ہی نبوت ہے ہاں ذکورہ بالا حوالہ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ جس طرح پہلے صحف میں نبی کے لفظ سے یہ مراد ہوتی ہے کہ انہوں نے براہ راست نبوت پائی میری نسبت جب لفظ نبی بولا جائے تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتی جیسا کہ فرماتے ہیں:۔’’یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعو یٰ میں نبی کا نام سن کر دھوکا کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں میرا ایسادعویٰ نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت اﷺکے افاضئہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپؐ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا-"( حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۴ حاشیہ) پس اس حوالہ سے میری مراد یہی ہے کہ آپ کی نبوت پہلے نبیوں کی طرح براہ راست نہیں ورنہ نبوت کے لحاظ سے آپ کوئی فرق تسلیم نہیں کرتے جیسا کہ فرماتے ہیں’’ منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگو ئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔‘‘( ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵