انوارالعلوم (جلد 2) — Page 593
۵۹۲ نبی بلا واسطہ نبوت پاتے ہیں۔ایک بالواسطہ - ایک نبوۃ محدثوں میں بھی پائی جاتی ہے تو اس شخص کی سمجھ میں کیا آسکتا تھا وہ تو سرے سے الہام اور مجد دین کاہی منکر تھا۔پھر آپ اس کے سامنے یہ تقریر کس طرح کرتے کہ میں مجددوں سے بڑھ کر ایک اور رتبہ پر فائز ہوں اور امتی نبی ایک خاص درجہ ہے اس کے عقائد کے مطابق تو یہی جواب تھا کہ اگر نبی کے لفظ سے تم چڑتے ہو تو پہلے بزرگوں نے بھی یہ لفظ استعمال کیا ہے پھر ان کو بھی کافر کہو اور اگر مجدد نہیں آسکتے تو رسول اللہﷺ پراعتراض کرو کہ آپ نے مجددوں کی پیشگوئی کیوں کی۔اس جواب سے تو اس کو یہ سمجھانا تھا کہ مصلحین کا آنا بند نہیں اور بہت سے مجدد گزر چکے ہیں کہ بعض نے یہ عقیدہ بھی ظاہر کیا ہے کہ نبی ہو سکتے ہیں جیسے کہ مثنوی رومی والوں نے محی الدین ابن عربی صاحب نے۔مجد دالف ثانی صاحب نے اور عوام مثنوی والوں کے بہت ہی معتقد ہوتے ہیں اور پٹھان مجدد صاحب کے فدائی ہیں اور وہ شخص چونکہ نبوت اور تجدید دین کے معنے میں یہ خیال کرتاتھا کہ دین کے کچھ نقص نکالے جائیں اور نیا کلمہ اور نئی نماز یں بنائی جائیں اس لئے اسے ان بزرگوں کے اقوال کی طرف جن کی عظمت عام طور پر لوگوں کے دلوں میں ہے متوجہ کیاگیا اور حدیث رسول اللہ ﷺ اس کو سنائی گئی تاکہ اسے معلوم ہو کہ نبوت اور تجدید دین کےیہی معنے نہیں ہوتے کہ دین کے نقص نکالے جائیں اور نئی شریعت لائی جائے بلکہ یہ الفاظ مختلف معنے رکھتے ہیں چنانچہ بعض پچھلے بزرگوں نے نبوت کو اسلام میں جاری مانا ہے تو کیا ان کو بھی کافر کہو گے ؟ اور جب ہم ان بزرگوں کے اقوال کو دیکھتے ہیں تو ان میں سے کسی نے بھی رسالت کے ساتھ مبعوث ہونے کا دعویٰ نہیں کیا پس ان حوالوں سے یہ خیال کرنا کہ وہ نبی تھے صرف قلت تدبر کے باعث ہے ان کا تو یہی مذہب تھا کہ نبی آسکتا ہے اپنی نسبت مبعوث رسول ہونے کادعویٰ انہوں نے کبھی نہیں کیا اور نہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام پا کر کبھی یہ شائع کیا ہے کہ تم کو رسول کرکے بھیجا جا تا ہے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود کو الہام ہواہے کہانا ارسلنا أحمد الى قومہ فقالوا کذاب ا شر اور یہ بات تیره سو سال میں ایک ولی اور ایک محدث میں بھی نہیں پائی جاتی کہ وہ رسالت کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہو۔بے شک مقام رسالت تک ان میں سے بعض پہنچے لیکن چونکہ کل کمالات ختم نبوت انہوں نے حاصل نہ گئے اس لئے جزوی طور پر نبی تھے نہ کہ فی الواقع نبی ہوئے کیونکہ ظلّی نبوت ہر پہلواور ہر کمال میں عکس تام کی متقضی ہے جو ان میں نہ تھا غرض کہ سوال کے مطابق جواب ہوتاہے اوراس سے صرف اس قدر مطلب نکالنا جائز ہو تا ہے جس کے لئے وہ جواب دیا گیا نہ کہ اس سے زائد اور