انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 564

۵۶۴ ۵۹۴ اب میں اس کتاب کو ختم کرتا ہوں۔اور تمام حق پسندوں سے درخواست کرتا ہوں کہ جو باتیں انہوں نے اس کتاب میں پڑھی ہیں۔ان کے مطالب پر اچھی طرح غور کریں اور سوچیں۔کہ حق کس طرف ہےتا ایسا نہ ہو کہ آنحضرت ﷺکی کسر شان کے مرتکب ہوں۔اور مسیح موعود کے فیصلہ کے رد کرنے والے بنیں بے شک ہر ایک جماعت کو اس بات کا لحاظ رکھنا چاہئے کہ وہ بے جا غلو سے بچے۔اور افراد سے اپنا دامن پاک رکھے۔لیکن میرے دوستو! تفریط سے بچنا بھی مومن کا فرض ہے۔اور حق پر قائم رہنا اس پر واجب ہے۔کیا یہ ضروری ہے کہ غلو کے خوف سے ہم بزرگوں کی ہتک شروع کردیں۔یہود پر اللہ تعالی ٰنے ہمیشہ کے لئے لعنت کی ہے۔اور اسی لئے کہ انہوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا۔پس یہ شان مؤمنانہ کے خلاف ہے کہ وہ صرف اس ڈرسے کہ کہیں غلو نہ ہو جائے۔حق کے اظہار سے بچے۔قرآن کریم تو ہمیں عدل کی تعلیم دیتا ہے۔پس عدل پر قائم رہو اور نہ کسی بات کو حد سے بڑھا اور نہ حد سے گھٹاؤ کہ دونوں باتیں بری ہیں۔وہ جو غلوکرتاہے اور ایک نی کوندا بنا دیتا ہے وہ بھی شال ہے۔لیکن جو خدا تعالی کے ایک رسول کی ہتک کرتا ہے اور اسے اس کے اصلی درجہ سے گرا دیتا ہے مغضوب علیہم گروہ سے اسے بھی مشابہت پیدا ہو گئی ہے اور ان دونوں مقاموں میں سے کوئی مقام بھی نہیں کہ جہاں مومن کھڑا رہنا پسند کرے۔خوب یاد رکھو کہ حق کی پیروی انسان کو نجات دلا سکتی ہے کیا ہم ہر صداقت کو اس لئے چھوڑ سکتے ہیں کہ کہیں غلو نہ ہو جائے غلو تو حد سے بڑھادینے کو کہتے ہیں۔پس کسی بات کو غلو قرار دینے سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے۔کہ آباوه حق کے خلاف ہے۔اگر وہ دلائل قاطعہ سے حق ثابت ہوجائے۔تو پھر غلو کے کیا معنے ہوۓ؟ کسی بات کو اس کے اصل درجہ تک مانناتو عین ثواب ہو تا ہے۔نہ کہ غلو۔پس مسیح موعود ؑکی ہتک اس جوش میں نہ کرو کہ تم غلو سے دور جارہے ہو۔کیونکہ جنہوں نے مسیح کی ہتک کی۔وہ آج تک سکھ اور چین کی زندگی نہیں پا سکے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ افراط اور تفریط دونوں برے ہیں اور یہ بالکل درست ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ وہ یہ بات کہتے ہوئے تفریط سے کام لیتے ہیں اور مسیح موعودؑ کا درجہ گھٹارہے ہیں۔اور اسی طرح قابل الزام ہیں۔جس طرح بعض وہ لوگ جو اطراء کی طرف راغب ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہم لوگ وسط میں ہیں۔اور ایک طرف اگر آنحضرت ﷺ کی عظمت و جلال کے قائل اور آپ کے خاتم النبّين ماننے کو جزو ایمان قرار دیتے ہیں۔تو دوسری طرف مسیح موعود ؑکی نبوت کا انکار کر کے ختم نبوت کی کرشان کرنے سے محفوظ ہیں۔جناب مولوی صاحب اپنے رسالہ میں لکھتے ہیں۔کہ حدیث میں آتا