انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 39

۳۹ سے کیا غرض کہ وہ قبول کرتا ہے یا نہیں۔میرا کام دعا کرنا ہے سو میں کرتا رہتا ہوں میں تو بیس سال سے ایسی آوازیں سن رہا ہوں میں تو کبھی نہیں گھبرایا تو تین دن میں گھبرا گیا۔دوسرے دن خدا تعالیٰ نے اسے فرمایا کہ میں نے تیری وہ ساری دعائیں قبول کر لیں جو تو نے بیس سال کے اندر کی ہیں۔غرض ہمارا کام پہنچا دینا ہے اور محض اس وجہ سے کہ کوئی قبول نہیں کرتا ہمیں تھکنا اور رُکنا نہیں چاہئے۔کیونکہ ہمارا کام منوانا نہیں ہم کو تو اپنا فرض ادا کرنا چاہیے تا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہم کہہ سکیں کہ ہم نے پہنچا دیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا لست علیھم بمسیطر۔لا اکراہ فی الدین؎ اور آپ کاکام اتنا ہی فرمایا بلغ ما انزل عیلکجو تم پر نازل ہوا اُسے پہنچاؤ۔پس ہمیں اپنا کام کرنا چاہیے۔جب منوانا ہمارا کام نہیں تو دوسرے کے کام پر ناراض ہو کر اپنا کام کیوں چھوڑیں؟ ہم کو اللہ تعالیٰ کے حضور سُرخرو ہونے کے لئے پیغامِ حق پہنچا دینا چاہیے۔پس ایسی تجویز کرو کہ ہر قصبہ اور شہر اور گاؤں میں ہمارے مبلّغ پہنچ جاویں اور زمین و آسمان گواہی دے دیں کہ تم نے اپنا فرض ادا کر دیا اور پہنچا دیا۔دوم۔ہندوستان سے باہر ہر ایک مُلک میں ہم اپنے واعظ بھیجیں۔مگر میں اس بات کے کہنے سے نہیں ڈرتا کہ اس تبلیغ سے ہماری غرض سلسلہ احمدیہ کی صورت میں اسلام کی تبلیغ ہو۔میرا یہی مذہب ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس رہ کر اندر باہر ان سے بھی یہی سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ اسلام کی تبلیغ یہی میری تبلیغ ہے پس اِس اسلام کی تبلیغ کرو جو مسیح موعود علیہ السلام لایا۔حضرت صاحب اپنی ہر ایک تحریر میں اپنا ذکر فرماتے تھے اور ہم مسیح موعود علیہ السلام کے ذکر کے بغیر زندہ اسلام پیش کر بھی کب سکتے ہیں۔پس جو لوگ مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ کا طریق چھوڑتے ہیں یہ ان کی غلطی ہے، کمزوری ہے ان پر حُجت پوری ہو چکی ہے۔حضرت صاحب کی ایک تحریر ملی ہے جو مولوی محمد علی صاحب کو ہی مخاطب کر کے فرمائی تھی۔اور وہ یہ ہے۔اخبار بدر جلد۶نمبر۸ مؤرخہ ۲۱؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۴ ’’۱۳؍ فروری ۱۹۰۷ء مولوی محمد علی صاحب کو بُلا کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یورپ امریکہ کے لوگوں پر تبلیغ کا حق ادا کرنے کے واسطے ایک کتاب انگریزی زبان میں لکھی جائے اور یہ آپ کا کام ہے۔آجکل ان مُلکوں میں جو اسلام نہیں پھیلتا اور اگر کوئی مسلمان ہوتا بھی ہے تو وہ بہت کمزوری کی حالت میں