انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 547

۵۴۰ مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکےہیں۔ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کیلئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ بشرط ان میں پائی نہیں جاتی (حقيقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۴۰۶۔۴۰۷) اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑنے اس امت میں اپنے سے پہلے کسی اور شخص کے نبی ہونے سے قطعی انکار کیا ہے۔پس جب مسیح موعود کہتا ہے۔کہ امت محمدیہ میں اس وقت تک صرف میں ہی ایک شخص ہوں جونبی کہلانے کا مستحق ہوں تو اب بتاؤکہ جو لوگ ہر بزرگ اور ولی کو نبی بنا رہے ہیں اور اس طرح مسیح موعود کی نبوت کو باطل کرنا چاہتے ہیں ان کا کیا حال ہو گا۔اور وہ اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے حضرت مسیح موعود ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۲۸حاشیہ فرماتے ہیں کہ:۔" جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے۔اور ہر ایک حال میں مجھے حکم ٹھہرا تا ہے اور ہر ایک تنازعہ کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کیا۔ان میں تم نخوت اور خود پسندی اور خوداختیاری پاؤگئے۔پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں ہے کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا۔اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں۔(روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۶۴) اور پھر کتاب نزول اس میں فرماتے ہیں:۔’اور وہ جو خدا کے مامور اور مرسل کی پورے طور پر اطاعت کرنا نہیں چاہتا اس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔اور وہ جو خدائے مامور اور مرسل کی باتوں کو غور سے نہیں سنتا۔اور اس کی تحریروں کو غور سے نہیں پڑھتا۔اس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔سو کوشش کرو کہ کوئی حصہ تکبر کا تم میں نہ ہو تاکہ ہلاک نہ ہو جا ؤ۔نزول المسیح صفحہ ۲۷ ر و حانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۴۰۳) پس ہر ایک مومن پر فرض ہے کہ مسیح موعود کی تحریروں کی قدر کرے۔اور ان کو اپنے خیالات کے مطابق بنانے کی بجائے اپنے خیالات ان کے مطابق بنا ئے۔اور مسیح موعود ؑکے فیصلہ کورد نہ کرے اور نہ اس کے الفاظ کو الٹ پھیر کر اپنے مطلب سے پھیرے کہ یہ ایک خطرناک گناه ہے۔