انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 509

۵۰۹ چرتے پھریں گے اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے عیسیٰ بن مریم چالیس سال تک رہیں گے اور پھر فوت ہو جائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑہیں گے۔اس حدیث میں صاف طور پر آنے والے عیسیٰ کونبی کہا گیا ہے اور نہ صرف یہ کہ نبی کہا ہے۔بلکہ سب نبیوں کی جماعت میں اسے شریک کیاگیاہے۔پس آنحضرت ﷺکی شہادت کی موجودگی میں مسیح موعود کی نبوت کا انکار کون کر سکتا ہے اگر کوئی کہے کہ ہم اس حدیث کو آنے والےمسیح نسبت سمجھتے ہی نہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث خود اس بات پر مجبور کر رہی ہے کہ اسے آنے والےمسیح پرہی چسپاں کیا جائے۔کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ وہ نبی مسیح نازل ہو گا۔اب یا تو یہ مانو کہ حضرت مسیح موعود مسیح موعود ہی نہیں۔بلکہ نعوذباللہ من ذالک آپ اپنے دعوے میں غلطی پر تھے۔اور ابھی ہمیں کسی اور مسیح کا انتظار کرنا چاہئے۔یا اس بات کو تسلیم کرو کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے۔کیونکہ اس حدیث میں مسیح موعود کو نبیوں کی جماعت میں شامل کیا گیا ہے۔اور پھر الگ طور پر بھی نبی کہاگیا ہے۔کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ میرے اور اس کے در میان کوئی اور نبی نہیں جس سے ثابت ہے کہ وہ نبی ہے۔پس اس حدیث میں دو دفعہ مسیح موعود کونبی کہا ہے۔پہلے تو سب انبیاء کے زمرہ میں شامل کر کے اپنا علاتی بھائی قرار دیا ہے اور پھر لم يكن بيني وبينه نبی کہہ کر اسے دوبارہ نبی کہا ہے۔غرض اب دو راہوں میں سے ایک ہی راہ کھلی ہے۔یا تو یہ اقرار کیا جائےکہ مسیح ناصری ہی دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور یا اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے۔اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس حدیث میں صاف الفاظ میں نبی کا لفظ مسیح کی نسبت کہاں استعمال کیاگیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ دو جگہ مسیح کو صاف طور پر نبی کہا گیا ہے۔اول تو اس قول میں کہ الانبیاء اخوة لعلات کہ انبیاء سب علاتی بھائی ہوتے ہیں۔کیونکہ اس حدیث میں تو مسیح كاہی ذکر ہے۔اگر اس سے دو سرے انبیاء مراد ہیں۔اور مسیح بیچ شامل نہیں۔تو یہ فقرہ ہی لغوجاتاہے۔کیونکہ ان کے ذکر کے ساتھ اس کا تعلق کوئی نہیں بنتا۔پس اس کا یہی مطلب ہے کہ مسیح کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کے لئے آنحضرت ﷺنے یہ فقرہ فرمایا ہے کہ سب انبیاء کا تعلق آپس میں علاتی بھائیوں کاسا ہو تا ہے۔پس مسیح سے بھی میرا تعلق ایسا ہی ہے۔اور پھر آگے فرماتے ہیں کہ لم يكن بينی و بینه نبی تب میرے اور اس کے در میان کوئی نبی نہیں اس فقرہ سے بھی ثابت ہے کہ وہ نبی ہے۔کیونکہ اگر وہ بھی نبی نہیں تو پھر اس فقرہ کی کیا ضرورت تھی اورپھر مسیح کی کیا خصوصیت تھی۔قیامت تک کوئی نبی ہی نہیں ہو نا تھا تو یہ کیوں فرمایا کہ میرے اور اس کے درمیان