انوارالعلوم (جلد 2) — Page 489
۲ ۴۸۹ بڑی شئے ہے۔ہمارا خیال کیا یقین ہے کہ آپؐ کی اطاعت کے بغیر تو معمولی تقویٰ بھی نصیب نہیں ہو تا۔پس ہمارے مقابلہ میں آپ وہ حوالے کیوں پیش کرتے ہیں۔جن سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت آنحضرت ﷺکے فیضان سے ہے۔ہم نے کب انکار کیا ہم تو آپ سے بہت زیادہ اس امر کے قائل ہیں۔اور مسیح موعود کے درجہ کی بلندی کی وجہ صرف یہی مانتے ہیں کہ مسیح موعود آپؐ کی فرمانبرداری میں سب پہلوں اور پچھلوں سے بڑھ گیا۔اور آنحضرت ﷺکی جو معرفت آپ نے پائی اور کسی نے نہ پائی اور یہی تو وجہ ہے کہ آپ کو نبوت کا درجہ ملا۔اور کسی کو نہ ملا۔ممکن ہے اوپر کے مضمون کا ایک حصہ بعض لوگ نہ سمجھیں۔کیونکہ اس میں بعض اصطلاحات آگئی ہیں۔اور ایسے لوگوں کو بعض لوگ شیر کی مثال دے دے کر ڈرانا چاہیں اس لئے میں اس مضمون کو اور رنگ میں عام فہم کر کے بیان کر دیتا ہوں۔تاہر ایک طالب حق اس کو سمجھ لے۔اور جان لے کہ یہ شیر کی مثال بھی ایک ڈراوا ہے ورنہ اس کا اثر حضرت صاحب کے دعوے پر کچھ نہیں پڑتا۔اس مضمون کے اچھی طرح سمجھنے کے لئے یہ بات اچھی طرح سے ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ مجازی کا لفظ جب کسی اور لفظ کے ساتھ ملایا جائے تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وو در حقیقت کچھ ہے ہی نہیں۔اور صرف نام رکھ دیا گیا ہے۔بلکہ یہ لفظ مختلف معنی دیتا ہے۔اور ہمیشہ اس سے یہی مراد نہیں ہوتی کہ جس لفظ کے ساتھ وہ لگایا گیا ہے۔اس میں کسی قسم کی بھی حقیقت ثابت نہیں۔بلکہ جس حقیقت کو مدِّنظر رکھ کر یہ لفظ بڑھایا جائے۔صرف اسی کے عدم پردلالت کرتاہے۔شیر ایک جانور کا نام ہے۔اور اردو کا لفظ ہے۔جب ایک آدمی کو ہم شیر کہہ دیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ لغت میں شیر جس چیز کا نام ہے یہ شخص اس سے مشابہت رکھتا ہے۔اور لغت کے لحاظ سے آدمی کا نام شیر مجازی معنوں کے درد سے ہے۔لیکن فرض کرو۔اگر کوئی جماعت شیر کے لفظ کے کوئی اور معنی مقرر کرے۔تو جب ان اصطلاحی معنوں کے رو سے شیر کا لفظ بولا جائے گا تو لغت کے لحاظ سے تو وہ حقیقت کے خلاف ہو گا لیکن اس جماعت کی اصطلاح کے روسے وہ حقیقت ہی ہو گا۔یہ تو ایک فرضی مثال ہے۔اب میں ایسی مثالیں دیتا ہوں۔جو اس وقت ہماری زبان میں موجود ہیں۔نماز اروو فارسی میں اس عبادت کا نام مشہور ہے جو مسلمانوں میں رائج ہے۔اگر کوئی مسلمان نماز کا لفظ بولتا ہے۔تو مسلمانوں میں مشہور ہونے کے لحاظ سے نماز کے حقیقی معنی اس عبادت کے