انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 480

۴۸۰ نبوت ظلّی یا بروزی ’’ یہ ضرور یاد رکھو کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پا چکے۔پس منجملہ ان انعامات کے دو نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیھم السلام نبی کہلاتے رہے لیکن قرآن شریف بجزنبی بلکہ رسول ہونے کے دو سروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت فلایُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہ أَحَداً إِلاّ مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ سے ظاہر ہے۔پس مصفی غیب پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ہوا۔اور آیت انعمت عليهم گواہی دیتی ہے کہ اس مصفّٰی غیب سے یہ امت محروم نہیں۔اور مصفّٰی غیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتاہے اور وہ طریق براہ راست بند ہے۔اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس موہبت کے لئے محض بروز اور ظلّیت اور فنا فی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔فتد بر۔‘‘ منه۔(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵ حاشیه روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۹ ) ظلّی نبوت جس کے معنی ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پانا۔وہ قیامت تک باقی رہے گی“۔(حقیقۃ الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۰) امتی نبی ’’ جب تک اس کو امتی بھی نہ کہا جائے جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک انعام اس نے آنحضرتﷺ کی پیروی سے پایا ہے نہ براہ راست"(تجليات الہٰیہ صفحہ ۹ حاشیہ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۰۱) نبوت تامہ الحدیث یدل علی ان النبوة التامة الحاملة لوحی الشریعة قد انقطعت (توضیح مرام صفحہ ۱۳ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۶۱) ترجمہ مذکورہ حدیث بتا رہی ہے کہ نبوت تامہ جووحی تشریعی والی ہوتی ہے بندہ ہوچکی ہے۔جزئی نبوت اس کی تعریف میں حضرت صاحب لکھتے ہیں ‘’ وہ صرف ایک جزئی نبوت ہے جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کے اسم سے موسوم ہے جو انسان کامل کے اقتدء سے ملتی ہے جو مستجمع جمیع کمالات نبوت تامہ ہے" (توضیح مرام صفحہ ۱۲ روحانی خزائن جلد ۳ صلہ ۶۰) *صلی اللہ علیہ وسلم