انوارالعلوم (جلد 2) — Page 470
۴۷۰ ہوئے جو قرآن کریم کی فضیلت میں خیال کرتے ہیں کہ اس کی زبان بڑی عمدہ ہے یا یہ کہ وہ ان کی کتاب ہے بلکہ میری مخاطب و ہ جماعت ہے جو حضرت مسیح موعود کے زیر تربیت بڑھی ہے اور جس نے پہلے دن سے ہی آواز متواتر سننی شروع کی ہے کہ قرآن کریم ایک کامل کتاب ہے وہ سب روحانی امور کو بیان کرتا ہے وہ کوئی لغو بیان نہیں کرتا۔وہ عقل کے خلاف باتوں کو نہیں منوا تا۔وہ ہر بات کو مبرہن کر کے بیان کرتاہے اور جو دعویٰ کرتا ہے اس کی دلیل بھی خود ہی دیتا ہے۔پس میں ان سے پوچھتاہوں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ قرآن کریم نے نبیوں پر ایمان لانے کا تو ہمیں حکم دیا ہو اور ہمیں یہ نہ بتایا ہو کہ نبی کہتے کسے ہیں۔جب ایک شے کو ہم سمجھ ہی نہیں سکتے تو اس پر ایمان کیا لائیں۔ہم جو انبیاء کی طرف دنیا کو بلائیں تو کیا کہہ کر بلائیں۔اگر کوئی شخص پوچھے کہ نبی کسے کہتے ہیں تو اسے کیا جواب دیں۔ضرور ہے کہ نبی کی کوئی حقیقت ہو۔اور نبی کے کوئی معنی ہوں۔اورضرور ہے کہ قرآن کریم نے ان معنوں کو بیان بھی کیا ہو۔کیونکہ وہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ نبیوں پر ایمان لاؤ- پس ہر ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود کی نبوت پر بحث کرنے سے پہلے قرآن کریم پر غور کرے۔اور دیکھے کہ قرآن کریم نبی کی کیا تعریف کرتا ہے میں اپنی سمجھ کے مطابق قرآن کریم سے نبی کی تعریف کر چکا ہوں۔لیکن چونکہ بعض لوگ بغیر قرآن کریم پر غور کرنے کے محض اپنے گمانوں کی بناء پر یہ سمجھ رہے ہیں کہ نبوت شاید کوئی خاص شئے ہے جس کے ملنے پر انسان نبی ہو جاتا ہے۔اس جگہ اس امر پر بھی کچھ لکھ دینا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم سے معلوم ہو تا ہے کہ نبوت ایمان کا ہی ایک اعلیٰ مرتبہ ہے اور تقوی ٰمیں ترقی کرتے کرتے انسان اس مرتبہ کو پہنچ جاتاہے جسے نبی کہتے ہیں۔اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتے ہیں فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ (النساء : ۷۰) یعنی مومن جب ترقی کرتے ہیں تو وہ نبیوں صدیقوں، شہداء اور صالحین کی جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں۔اس آیت سے انسان کی ترقی کے چار درجے معلوم ہوتے ہیں۔اول صلحاء میں اچھے لوگ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بادشاہ کی نیک اور خدمت گذار رعایا ہوتی ہے کہ ان کی فرمانبرداری کی وجہ سے بادشاہ ان پر خوش ہوتاہے اور ہر طرح ان کی آسائش و آرام کا فکر کرتا ہے۔چنانچہ صالح کے معنی لغت میں اس آوئی کے آتے ہیں۔جو اپنے سب حقوق و فرائض کو ادا کرتا ہے۔دوسرا درجہ انسان کی ترقی کا شہید کا درجہ ہوتا ہے جس کے معنی حاضر اور سچے گواہ کے ہیں۔سچے گواہ کو بھی اسی لئے شہید کہتے ہیں کہ سچی