انوارالعلوم (جلد 2) — Page 29
۲۹ تعمیر کعبہ کے وقت اس طرح دعا کی تھی جو اَب پوری ہونے لگی ہے۔بار بار یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ(البقرة ۴۱) فرما کر یہ بتایا کہ بنی اسرائیل کا حق شکایت کا کوئی نہیں ان سے وعدہ پورا ہو چکا ہے اور جس خدا نے ان کا وعدہ پورا کیا ضرور تھا کہ بنی اسماعیل کا وعدہ بھی پورا کرتا۔اور اس طرح پر بنی اسرائیل پر بھی اتمامِ حجت کیا کہ باوجود انعامِ الٰہیہ کے تم نے نافرمانی کی اور مختلف قسم کی بدیوں میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو تم نے محروم کرنے کا مستحق ٹھہرا لیا ہے تم میں نبی آئے، بادشاہ ہوئے اب وہی انعام بنی اسماعیل پر ہوں گے۔اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ یہ دعا تو تھی ہم کیونکر مانیں کہ یہ شخص وہی موعود ہے اس کا ثبوت ہونا چاہیے۔اس کے لئے فرمایا کہ موعود ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ اس دعا میں جو باتیں بیان کی گئی تھیں وہ سب اس کے اندر پائی جاتی ہیں او رچونکہ اس نے ان سب وعدوں کو پورا کر دیا ہے اس لئے یہی وہ شخص ہے۔گو سارا قرآن شریف ان چار ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے لیکن اس سورۃ میں خلاصۃً سب باتیں بیان فرمائیں تا معترض پر حجت ہو یتلوا علیھم ایاتک کے متعلق فرمایا ان فی خلق السموت والأرض اور آخر میں فرمایا لایت لقوم یعقلون (البقرة ۱۶۵) اس میں عقل رکھنے والوں کے لئے کافی دلائل ہیں جن سے اللہ تعالیٰ، ملائکہ، کلامِ الٰہی اور نبوت کا ثبوت ملتا ہے یہ تو نمونہ دیا تلاوتِ آیات کا۔اس کے بعد تھا یعلمھم الکتاباس کیلئے مختصر طور پر شریعت اسلام کے موٹے موٹے احکام بیان فرمائے اور ان میں بار بار فرمایا کتب علیکم کتب علیکم جس سے یہ بتایا کہ دیکھو اس پر کیسی بے عیب شریعت نازل ہوئی ہے۔پس یہ یتلوا علیھم ایاتک کا بھی مصداق ہے اور یعلمھم الکتاباکا بھی۔تیسرا کام بتایا تھا کہ لوگوں کو حکمت سکھائے۔اس لئے شریعت کے موٹے موٹے حکم بیان فرمانے کے بعد قومی ترقی کے راز اور شرائع کی اغراض کا ذکر فرمایا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور طالوتؑ کے واقعات سے بتایا کہ کس طرح قومیں ترقی کرتی ہیں اور کس طرح مُردہ قومیں زندہ کی جاتی ہیں۔پس تم کو بھی ان راہوں کو اختیار کرنا چاہیے اور اس حصہ میں ومنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرً (البقرة ۲۷۰)فرما کر یہ اشارہ فرما دیا کہ لو تیسرا وعدہ بھی پورا ہو گیا۔اس رسول نے حکمت کی باتیں بھی سکھا دی ہیں۔مثلاً طالوت کا واقعہ بیان فرمایا کہ اُنہوں نے حکم دیا کہ نہر سے کوئی پانی نہ پیئے اور پینے والے کو ایسی سزا دی کہ اسے اپنے سے علیحدہ کر دیا اور بتایا کہ جب کوئی شخص چھوٹا حکم نہیں مان سکتا تو اس نے بڑے بڑے حکم کہاں ماننے ہیں۔اور یہ بھی بتایا کہ جس وقت جنگ ہو