انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 426

۴۲۶ \"یہی امت ہے کہ اگرچہ نبی تونہیں مگر نبیوں کی مانند خداتعالی ٰسے ہم کلام ہو جاتی ہے اوراگر چہ رسول نہیں مگر رسولوں کی مانند خداتعالی ٰکے روشن نشان اس کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں۔اور روحانی زندگی کے دریا اس میں بہتے ہیں۔اور کوئی نہیں کہ اس کا مقابلہ کر سکے۔کوئی ہے کہ جوبرکات اور نشانوں کے دکھلانے کے لئے مقابل میں کھڑا ہو کر ہمارے اس دعوے کا جواب دے“ (آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۲۲۴) ’’جب کسی کی حالت اس نوبت تک پہنچ جائے تو اس کا معاملہ اس عالم سے وراء الوراء ہو جاتا ہے اور ان تمام ہدایتوں اور مقامات عالیہ کو ظلّی طور پر پالیتا ہے جو اس سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو ملے تھے۔اور انبیاء اور رسل کا وارث اور نائب ہو جاتا ہے وہ حقیقت جو انبیاء میں معجزہ کے نام سے موسوم ہوتی ہے وہ اس میں کرامت کے نام سے ظاہر ہو جاتی ہے اور وہی حقیقت جو انبیا ء میں عصمت کے نام سے نامزد کی جاتی ہے اس میں محفوظیت کے نام سے پکاری جاتی ہے اوروحی حقیقت جو انبیاء میں نبوت کے نام سے بولی جاتی ہے اس میں محد ثیت کے پیرایہ میں ظہور پکڑتی ہے حقیقت ایک ہی ہے لیکن باعث شدت اور ضعف رنگ کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں۔اس لئے آنحضرت ﷺ کے ملفوظات مبار کہ اشارت فرمارہے ہیں کہ محدث نبی بالقوہ ہوتا ہے، اور اگر باب نبوت مسدود نہ ہو تاتو ہر یک محدث اپنے وجود میں قوت اور استعداد نبی ہو جانے کی رکھتا تھا۔اوراسی قوت اور استعداد کے لحاظ سے محدث کا حمل نبی پر جائز ہے یعنی کہہ سکتے ہیں کہ المحدث نبی جیسا کہ کہہ سکتے ہیں، العنب خمر على القوة الإستعداد ومثل هذا الحمل شائع متعارف في عبارات القوم و قد جرت المحاورات على ذلك کمالا يخفى على کل ذکی عالم مطلع على کتب الأدب و الكلام والتصوفاورای حمل کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جانہ نے اس قراء ت کو جو ممارستان تور وب و محدث ہے خفقر کر کے قراء ت معانی میں صرف یہ الفاظ کافی قرار دیئے کہ وما ارسلنا من قبلک من رسول و لا نبی ( الحج:۵۳) ( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۳ تا ۲۳۹) \" قولہ۔میرزا صاحب کے موافقین اور مخالفین نے پرلے درجے کی افراط اور تفریط کی ہے جو شخص یہ کہتا ہو کہ میں قرآن شریف کو مانتا ہوں۔نماز پڑھتا ہوں۔روزے رکھتا ہوں۔اور لوگوں کو اسلام سکھاتا ہوں اس کو کافر کہنازیبا نہیں۔مگر ایک عالم کے مرتبے سے بڑھا کر پیغمبری تک پہنچانا بھی نہیں۔*و من قبلک