انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 420

بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے۔اور نبوت کے معنی اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔اور اگر یہ عذر پیش ہو کہ باب نبوت مسدوردہے۔اور وحی جو انبیاء نازل ہوتی ہے۔اس پر مہرلگ چکی ہے میں کہتا ہوں کہ نہ من كل الوجوه بابِ نبوت مسدواد ہؤاہے اور نہ ہرایک طور سے وحی پر مہرلگائی گئی ہے بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔مگر اس بات کو بحضورِدل یاد رکھنا چاہئے کہ یہ نبوت جس کا ہمیشہ کے لئے سلسلہ جاری رہے گا۔نبوت تامہ نہیں ہے بلکہ جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں۔وہ صرف ایک جز ئی ؎۱۲ نبوت ہے جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کے اسم سے موسوم ہے۔جو انسان کامل کے اقتداء سے ملتی ہے۔جو مستجمع جمیع کمالات نبوت تامہ ہے۔یعنی ذات ستودہ صفات حضرت سید نا ومولانامحمد مصطفٰی ﷺ فاعلم ارشدک اللّٰہ تعالیٰ انَّ النبی محدث والمحدّث نبی باعتبار حصول نوع من انواع النبوت و قد قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یبق من النبوت الا المبشرات ای لم یبق من انواع النبوت الا نوع واحد وھی المبشرات۔۔۔۔بل الحدیث یدل علی ان النبوة التامة الحاملة لوحی الشریعة قد انقطعت ولٰٰکن النبوة التی لیس فیھا الا المبشرات فھی باقیة الی یوم القیامة لا انقطاع لھا ابدًا۔۔۔حاصل کلامنا ان ابواب النبوة الجزئیة مفتوحة ابدًا و لیس فی ھٰذا النوع الا المبشرات او المنذرات من الامور المغیبة او اللطائف القرآنیة والعلوم اللدنیة۔و اما النبوة التی تامة کاملة جامعة لجمیع کمالات الوحی فقد آمنّا بانقطاعھا (روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ۶۰- ۶۱ توضیح مرام صفحہ۲ ۱ - ۱۳ ) عربی حصے کا ترجمہ یہ ہے: جان لے۔اللہ تعالی تجھے ہدایت دے کہ نبی محدث ہو تا ہے اور محدث نبی ہوتا ہے اس اعتبار سے کہ اسے نبوت کی قسموں سے ایک قسم حاصل ہوتی ہے اور رسول الله ﷺ نے فرمایاکہ سوائے مبشرات کے نبوت سے کچھ باقی نہیں رہا۔یعنی نبوت کے انواع میں سے صرف ایک نوع باقی رہ گئی ہے۔اور وہ مبشرات ہیں۔بلکہ حدیث دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ نبوت؎۱۳ تامہ جووحی شریعت کی حامل ہوتی ہے۔وہ منقطع ہو چکی ہے۔لیکن وہ نبوت کہ جس میں سوائے مبشرات کےکچھ بھی نہیں۔وہ قیامت کے دن تک پاتی ہے۔اور کبھی منقطع نہیں ہوگی۔حاصل کلام یہ ہے کہ جزئی ثبوت کے دروازے ہمیشہ کے لئے کھلے ہیں۔اور اس نوع میں کچھ نہیں سوائے مبشرات اور