انوارالعلوم (جلد 2) — Page 415
۴۱۵ قطعی ہونایعنی عظیم الشان اخبار پر جو انذار و تبشیر کا پہلو رکھتی ہوں مشتمل ہونا(۳) خدائے تعالیٰ کا نبی کے نام سے پکارنا۔اور حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ نبی اسی شخص کو کہتے ہیں نہ کسی اور شخص کو جس میں یہ تینوں باتیں پائی جائیں۔گو میں نے بعض حوالوں میں سے فرداً فرداً تینوں شرائط نبوت یا ان میں سے دو دو شرائط بھی ثابت کی ہیں لیکن ایک دفعہ سب پر نظرمار کر دیکھ لو حضرت مسیح موعودؑ کے نزدیک نبی کے لئے وہی شرئط ہیں جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ یہی نہیں فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک نبی کی یہ شرائط ہیں بلکہ حوالہ نمبر۲ میں اس تعریف کی نسبت یہ فرماتے ہیں کہ یہ تعریف میں نے خدا کے حکم کے ماتحت سمجھی ہے اور حوالہ نمبر۳ میں فرماتے ہیں کہ خدا کی اصطلاح کے مطابق بھی نبی اسی کو کہتے ہیں جس میں یہ باتیں پائی جاتی ہوں اور حوالہ نمبر ۴میں سب نبیوں کا اس تعریف پر اتفاق ظاہر فرماتے ہیں پر حوالہ نمبر ۵میں اسلام کی اصطلاح کے مطابق بھی نبی کو قرار دیتے ہیں پھر حوالہ نمبر ۶ میں لغت کو بھی اس تعریف سے متفق بتاتے ہیں اور پھر حوالہ نمبر۷ میں آپ نے قرآن کریم کے مطابق جو تعریف نبی کی بیان فرمائی ہے وہ بھی اسی کے مطابق ہے پس ان حوالہ جات کو ملاکر یہی معلوم ہوتا ہے کہ جو تعریف نبی کی میں نے لغت و قرآن سے سمجھ کر اوپر بیان کی تھی وہی حضرت صاحب کے خیال میں درست ہے وہی تعریف خد اتعالی ٰکے نزدیک درست ہے وہی جملہ انبیاء کے نزدیک درست ہے وہی اسلام بیان فرماتا ہے وہی قرآن کریم ظاہر فرماتا ہے پس اب اس تعریف میں کیا شک ہوسکتا ہے اور مندرجہ بالا قاضیوں کے علاوہ اور کون سا قاضی ہے جس کا فیصلہ اس قضیہ میں فیصلہ کن ہو سکتا ہے؟ جبکہ لغت جو ہمارے خیالات کے اظہار کا واحد ذریعہ ہے اور خدائے تعالی ٰجو نبیوں کا بھیجنے والا اور قرآن کریم جو اللہ تعالی ٰکے فیصلوں کے معلوم کرنے کا یقینی ذریعہ ہے اور انبیاء جو اللہ تعالی ٰکے مقرب بندے ہیں اور اس کے کلام کے معنی سمجھنے کی سب سے زیادہ لیاقت رکھتے ہیں اور اس زمانہ کا مامور اور مسیح موعود اور حکم و عدل ہےجسے اس وقت تمام جھگڑوں کے فیصلے کرنے کے لئے خدا نے بھیجا ہے یہ سب نبی کی مذکورہ بالا تعریف پر متفق ہیں تو بتاؤ کہ اب اس تعریف کے قبول کرنے میں کسی مؤمن کو کیا تر دّد ہو سکتا ہے جاہل اور نادان انسان کی جو چاہے تعریف کرے اور اپنے پاس سے انبیاء کی بعض تعریفیں قرار دے اور وہ کام جو خدائے تعالی ٰکا ہے اسے اپنے ہاتھ میں لے لے لیکن وہ شخص جس کا دل نور ایمان سے بکلی محروم نہیں ہوا جس کے دل میں محبت الہٰی کی چنگاری ابھی تک سلگ رہی ہے جس کی سعادت اور رُشد پر موت