انوارالعلوم (جلد 2) — Page 386
۳۸۹ نے اختلاف کو تسلیم کیا پھر اس کی وجہ بتائی اور اپنی افضلیت کے مسئلہ کو اصل اور درست قرار دیا لیکن اس جگہ پہ بحث نہیں چھیڑی کہ میں نے کیوں اس مضمون کو ناسخ قرار دیا ہے جو پہلے کا چھپا ہوا ہے اور چونکہ میں جانتا تھا کہ تریاق القلوب در حقیقت پہلے کی کتاب ہے اسی لئے میں نے اپنے رسالہ میں بارہا ایک غلطی کے ازالہ والے اشارے حوالے پیش کئے ہیں جو ۱۹۰۱ء کا ہے کیونکہ میں جانتا تھا کہ درحقیقت یہ اشتہار تریاق القلوب سے بعد کا ہے جیسا کہ میں اوپر ثابت بھی کر آیا ہو۔بناوٹی حوالہ مجھے اس جگہ ایک بات کے بیان کرنے پر بہت افسوس ہے لیکن میں مجبور ہوں کیونکہ میرا مضمون نامکمل رہ جاتا ہے اگر میں اس پر کچھ نہ لکھوں۔اور وہ یہ ہے کہ جناب مولوی صاحب نے اپنے رسالہ میں ایک غلط حوالہ دیا ہے اور ایک خطرناک تحریف کی ہے اگر آپ حضرت صاحب کی عبارت کو اپنے الفاظ میں لکھتے اور پھر کوئی خاص بات ترک کر جاتے ہو و وہ بھی ایک حد تک قابل اعتراض تھی لیکن ایک عبارت کو ایسے طور سے نقل کرنا جس سے معلوم ہو کہ وہ حضرت صاحب کے اصل الفاظ میں ہے اور درحقیقت اس کے الفاظ دہ نہ ہوں جو حضرت مسیح موعودؑ کی عبارت کے ہیں ایک ایسی غلطی ہے جس کا نتیجہ نہایت سخت ہو سکتا ہے آپ لکھتے ہیں ’’دوسری طرف تریاق القلوب کو دیکھتے ہیں تو اس کی وہ تحریر جس میں لکھاہے کہ ’’غیرنبی کونبی پرفضیلت ہو سکتی ہے جس کے تمام اہل علم اور اہل معرفت قائل ہیں‘‘ نشان نمبر ۷۵کے اندر آئی ہے۔نشان \" \" ہمیشہ حوالہ کے لئے لکھا جاتا ہے لیکن جب ہم دیکھتے ہیں تو یہ عبارت تریاق القلوب میں نہیں جبکہ تریاق القلوب کی عبارت ہی ہے\" ایک جز ئی فضیلت ہے جو غیرنبی کونبی پر ہو سکتی ہے اور تمام اہل علم اور معرفت اس فضیلت کے قائل ہیں اور جو کچھ جناب مولوی صاحب نے لکھا ہے وہ درست نہیں اور وہ الفاظ نہیں جو حضرت صاحب کے ہیں حالانکہ اس عبارت کو آپ کے رسالہ میں علامت (\" \") کے درمیان لکھا گیا ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ اصل عبارت ہے اگر کتاب عربی میں ہوتی اور آپ اس کا ترجمہ فرماتے تب بھی ایک بات تھی کیونکہ کہا جاسکتا تھا کہ یہ ترجمہ ہے ہماری سمجھ میں اس طرح آیا ہم نے اسی طرح کر دیا لیکن یہ بات بھی نہیں کتاب اردو زبان میں ہے پھر اگر الفاظ بدل جاتے اور مطلب میں فرق نہ آتا تب بھی ایک معقول عذر تھا لیکن مطلب ایسی طرزسے غلط ہو گیا ہے جس کا فائد ہ خود ان کو ہی حاصل ہو سکتا ہے جس سے خواہ مخواہ شک پیدا ہوتا ہے کہ جب ایسے رنگ میں لفظ بدل دیئے گئے ہیں جن سے