انوارالعلوم (جلد 2) — Page 375
۳۷۵ اس جگہ میں ایک اورشبہ کا بھی ازالہ کردینا ضروری خیال کرتا ہوں جو بعض شخصوں کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعو دؑنے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں ریویو اور تریاق القلوب میں تناقض کے پائے جانے کا اعتراض کرنے والے کو جو جواب دیا ہے۔اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ میں خداتعالی ٰکی تیئس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نے جس اختلاف کو تسلیم کیا ہے وہ تریاق القلوب کا نہیں کیونکہ تریاق القلوب کو شائع ہوئے تو ابھی چار سال ہوئے تھے اور حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ میں تیئس سال کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ جس عقیدہ کو حضرت رد فرماتے ہیں وہ تیئس سال پہلے کا ہے نہ کہ تریاق القلوب کا۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہم روز روشن کی طرح ثابت کر چکے ہیں کہ تریاق القلوب میں وہ عقیده درج ہے جس کار د حضرت مسیح موعود ؑنے فرمایا ہے۔تریاق القلوب اب تک موجود ہے اسے کھول کر دیکھ لو کیا اس میں مسیح کی فضیلت کو تسلیم کیاہے یا نہیں۔اگر اس کتاب میں حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے آپ کو حضرت مسیح ناصریؑ سے کلی طورپر افضل قرار دیا ہے تو پھر بیشک ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت صاحب نے جس خیال کو رد فرمایا ہے وہ تئیس سال پہلے کا ہے۔لیکن جبکہ صریح الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام تریاق القلوب میں مسیح کی فضیلت کا اقرار کرتے ہیں تو پھر تریاق القلوب کے حوالہ کے منسوخ ہونے میں اور اس کے بعد نیا خیال بدلنے میں کیا شک ہو سکتا ہے۔ضرور ہے کہ تریاق القلوب کےبعد حضرت مسیح موعودؑ نے اپنا عقیدہ بدلا ہو۔یس تیئس سال والے فقرہ کے کوئی ایسے معنی کرنےچاہئیں۔جن سے حضرت مسیح موعودؑ پر کوئی اعتراض نہ آتا ہو کیونکہ اگر اوپر والے معنی کئے جائیں تو حضرت مسیح موعودؑ پر دو اعتراض پڑتے ہیں۔ایک تو یہ کہ آپ سے سوال تو تریاق القلوب والے زمانے کا کیا جا تا ہے۔اور آپ جواب براہین کے زمانہ کے متعلق دیتے ہیں۔اور دوسرا یہ کہ آپ نے نعوذ باللہ من ذالک خلاف بیانی کی کہ میں تیئس سال ہوئے اپنے آپ سے مسیح کو افضل خیال کرتا تھا۔لیکن در حقیقت آپ تریاق القلوب میں بھی وہی خیال ظاہر فرما چکے تھے۔سوم یہ کہ گویا آپ نے خدا تعالیٰ کے حکم کی خلاف ور زی کی کہ اللہ تعالی نے تو تیئس سال پہلے آپ کو حکم دیا تھاکہ تم اپنے آپ کو مسیح سے افضل قرار دو۔آپ نے منشائے الہٰی کو سمجھ بھی لیا۔لیکن باوجود اس کےآپ نے تریاق القلوب میں علم الہٰی کے خلاف عقیدہ ظاہر فرمایا۔اے دوستو! ان بحثوں میں اپنےمنشاء اور مدعا کو پورا کرنے کے لئے ایسے حد سے نہ نکل جاؤ کہ خود حضرت مسیح موعو دکو نشانہ