انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 363

۴۸۱ آخری خلیفہ اس نبیؐ\" کا ہوں جو خیرالرسل ہے اس لئے خدا نے چاہا کہ مجھے اس سے کم نہ رکھے \" )حقیقت الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۴) اس عبارت سے یہ پتہ لگتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو کم سے کم مسیح کے برابر تو سمجھتے ہیں لیکن آگے چل کر آپ فرماتے ہیں ”پس خداد کھلا تا ہے کہ اس رسولؐ کے ادنی خادم اسرائیلی مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہیں\" پھر یہی نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سنو!اسی جگہ حضرت مسیح موعوڈؑ آگے چل کر فرماتے ہیں \" پھر جبکہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔عزیز و ا!جبکہ میں نے یہ ثابت کر دیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور آنے والا مسیح میں ہوں تو اس صورت میں جو شخص پہلے مسیح کو افضل سمجھتا ہے اس کو نصوص حد یثیہ اور قرآنیہ سے ثابت کرنا چاہئے کہ آنے والا مسیح کچھ چیزہی نہیں نہ نبی کہلا سکتا ہے نہ حکم۔جو کچھ ہے پہلا ہے خدا نے اپنے وعدہ کے موافق مجھے بھیج دیا۔اب خدا سے لڑو۔ہاں میں صرف نبی نہیں بلکہ ایک پہلوسے نبی اور ایک پہلو سے امتی بھی۔تا آنحضرت ﷺکی قوت قدسیہ اور کمال فيضان ثابت ہو“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۹) مذکورہ بالا عبارت میں آپ نہ صرف یہ کہ مسیح سے اپنے افضل ہونے کا ذکر فرماتے ہیں بلکہ آپ فرماتے ہیں کہ آپ کے حضرت مسیح سے افضل ہونے پر اعتراض کرنا شیطانی وسوسہ ہے اور یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعودؑ نبی نہیں کہلا سکتے خدائے تعالیٰ سے جنگ کرنے کے مترادف ہے۔ہاں جیسا کہ آپ ہمیشہ فرماتے آئے ہیں آپ نبی بھی ہیں اور آنحضرت ﷺ کے امتی بھی۔اور آپ نے اس جگہ یہ بھی بتا دیا ہے کہ امتی نبی ہونا آپ ؐکے درجہ کے گھٹانے کے لئے نہیں بلکہ ”تا آنحضرت ﷺکی قوت قدسیہ اور کمال فیضان ثابت ہو \" (حقیقۃ الوحی ۱۵۹) پس امتی نبی ہوا کمی درجہ کی علامت نہیں بلکہ علو درجہ کی علامت ہے اور ایسے نبی کے ذریعہ سے آنحضرت ﷺ کی قوت قدسیہ اور کمال فیضان ثابت ہوتاہے۔اب میں پھر اپنے اصل مضمون کی طرف آتا ہوں اور ہر ایک انصاف پسند کو متوجہ کر کے کہتا ہوں کہ کیا جو حوالہ میں نے اوپر نقل کیا ہے اس سے ثابت نہیں ہو تاکہ حقيقۃ الوحی میں آپ اپنےآپ کو مسیح ؑسے افضل قرار دیتے ہیں۔پس یہ کیسی الٹی بات ہے کہ باوجود اس کے کہ تریاق القلوب