انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 362

۴۹۲ پر نہایت خوش ہوں کہ نہایت زبردست دلیل ہے اگر نسخ ثابت ہے تو تریاق القلوب کا حوالہ ناسخ ہے نہ کہ ریویو کا۔کیونکہ ریویو کا مضمون پہلے کا ہے اور تریاق القلوب بعد کی کتاب ہے۔مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ اعتراض صرف دل خوش کن ہے ورنہ اصل میں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔اس لئے کہ خود حضرت مسیح موعودؑ نے اس کا فیصلہ کر دیا ہے یعنی آپ نے خود فرما دیا ہے کہ تریاق القلوب کا مضمون منسوخ ہے ریویو کے مضمون سے۔اور اس بات کو سمجھنے کے لئے میں تریاق القلوب اور ریویو دونوں کے ان حوالہ جات کو پھر نقل کرتا ہوں جن میں اختلاف ہے۔(تریاق القلوب کا حوالہ صفحہ ۳۵۳) ’’اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گذرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے۔کیونکہ یہ ایک جز ئی فضیلت ہے جو ایک غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔(تریاق القلوب صفحہ ۵۳ روحانی خزائن جلد ۵ اصفحہ ۴۸۱) ریویو کا حوالہ جلداول صفحہ ۲۵۷: \"خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے\"-(ریویو آف ریلیجز جلد اول نمبر ۶ صفحہ ۲۵۷) اب ان دونوں حوالوں سے ثابت ہے کہ تریاق میں تو آپ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں مسیح سے صرف جزوی فضیلت رکھتا ہوں اور اس سے افضل نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ نبی ہے اور میں غیر نبی۔اس کے خلاف ریویو میں لکھتے ہیں کہ میں مسیح سے تمام شان میں بوڑھا ہوا ہوں اب دیکھنا چاہیے کہ ان دنوں خیالوں میں سے حضرت مسیح موعودؑ کس کو رد کرتے ہیں اور کسے درست فرماتے ہیں اگر حقیقۃ الوحی میں سائل کے جواب میں آپ نے یہ جواب دیا ہو کہ میرا پہلے یہ خیال تھا کہ میں مسیح سے افضل ہوں لیکن بعد میں میرا یہ عقیدہ نہ رہا اور مجھے خدا تعالی نے بتایا کہ تو نبی نہیں وہ بھی تھا۔غیرنبی نبی سے افضل کس طرح ہو سکتا ہے تب تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ تریاق القلوب والا عقيده ناسخ تھا اور ریویو والا عقیده منسوخ لیکن اگر اس کے خلاف آپ اس عقیدہ کو جو تریاق القلوب میں ظاہر فرمایا ہے۔پہلا قرار دیں اور اپنے افضل ہونے والے عقیدہ کو بعد کا قرار دیں تو پھر ہر ایک شخص کو یہ قبول کرنا ہو گا کہ مسیح موعود ؑکے نزدیک تریاق القلوب والا حوالہ منسوخ ہے اور ریویو والا ناسخ۔چنانچہ جب ہم حقيقۃ الوحی کو دیکھتے ہیں تواس میں یہ لکھاپاتے ہیں: ’’اور میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ مسیح ابن مریم آخری خلیفہ موسیٰؑ علیہ السلام کا ہے اور میں