انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 17

۱۷ عذر ہے جس کا نام اس کی پیدائش سے پہلے عمر رکھا گیا۔اور میں تمہیں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں اس پیشگوئی کا مجھے کچھ بھی علم نہ تھا بلکہ بعد میں ہوا۔اس پیشگوئی کے علاوہ خدا تعالیٰ نے سینکڑوں آدمیوں کو خوابوں کے ذریعہ سے میری طرف جُھکا دیا اور قریباً ڈیڑھ سَو خواب تو اِن چند دنوں میں مجھ تک بھی پہنچ چکی ہے اور میرا ارادہ ہے کہ اس کو شائع کر دیا جائے۔اور میری ان تمام باتوں سے یہ غرض نہیں ہے کہ میں اپنی بڑائی بیان کروں بلکہ غرض یہ ہے کہ کسی طرح جماعت کا تفرقہ دور ہو اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی ہدایت دے جو اِس وقت ایک اتحاد کی رسّی میں نہیں جکڑے گئے۔ورنہ میری طبیعت ان باتوں کے اظہار سے نفرت کرتی ہے۔مگر جماعت کا اتحاد مجھے سب باتوں سے زیادہ پیارا ہے۔وہ لوگ جو میری مخالفت کرتے ہیں یا اب تک بیعت میں داخل نہیں ہوئے آخر کیا چاہتے ہیں؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ آزاد رہیں؟ مگر وہ یاد رکھیں کہ ان کا ایسا کرنا اپنے آپ کو ہلاک کرنے کے مترادف ہوگا۔پھر کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی اور خلیفہ مقرر کریں؟ اگر وہ ایسا چاہتے ہیں تو یاد رکھیں کہ ایک وقت میں دو خلیفہ نہیں ہو سکتے اور شریعت اسلام اسے قطعاً حرام قرار دیتی ہے۔پس اب وہ جو کچھ بھی کریں گے اس سے جماعت میں تفرقہ پیدا کریں گے۔خدا چاہتا ہے کہ جماعت کا اتحاد میرے ہی ہاتھ پر ہو اور خدا کے اس ارادہ کو اب کوئی نہیں روک سکتا۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ان کے لئے صرف دو ہی راہ کھلے ہیں۔یا تو وہ میری بیعت کر کے جماعت میں تفرقہ کرنے سے باز رہیں یا اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ کر اس پاک باغ کو جسے پاک لوگوں نے خون کے آنسوؤں سے سینچا تھا اُکھاڑ کر پھینک دیں۔جو کچھ ہو چکا ہوچکا مگر اب اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت کا اتحاد ایک ہی طریق سے ہو سکتا ہے کہ جسے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے ورنہ ہر ایک شخص جو اس کے خلاف چلے گا تفرقہ کا باعث ہوگا۔میرا دل اِس تفرقہ کو دیکھ کر اندر ہی اندر گھلا جاتا ہے اور میں اپنی جان کو پگھلتا ہوا دیکھتا ہوں رات اور دن میں غم و رنج سے ہم صحبت ہوں۔اس لئے نہیں کہ تمہاری اطاعت کا میں شائق ہوں بلکہ اس لئے کہ جماعت میں کسی طرح اتحاد پیدا ہو جائے۔لیکن میں اس کے ساتھ ہی کوئی ایسی بات نہیں کر سکتا جو عہدۂ خلافت کی ذلّت کا باعث ہو۔وہ کام جو خدا نے میرے سپرد کیا ہے خدا کرے کہ عزت کے ساتھ اس سے عہدہ برآ ہوں اور قیامت کے دن مجھے اپنے مولا کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔