انوارالعلوم (جلد 2) — Page 329
۳۲۹ میری طرف سے ہرگز نہیں ہوا۔خواجہ صاحب اپنے لیکچر میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ میں نے کیوں مولوی شیر علی صاحب کو ولایت جانے سے روک دیا حالانکہ میں خلیفہ اوّل سے وعدہ کر چکا تھا کہ میں آپ کے حکم بھی مانوں گا اور آپ کے بعد کے خلفاء کا بھی۔حالانکہ مجھے حضرت ابوبکرؓ اور ابوعبیدہؓ کی مثال یاد کرنی چاہیے تھی۔میں حیران ہوں کہ خواجہ صاحب نے میرے وعدہ سے میرے عمل کو مخالف کس طرح سمجھا۔میں نے کہا تھا کہ حضرت خلیفہ اوّل کا حکم بھی مانوںگا اور بعد کے خلفاء کا بھی۔حضرت کی زندگی تک میرا فرض تھا کہ آپ کے حکم مانتا اور بعد میں جو خلیفہ ہوتا اُس کے حکم ماننا میرا فرض تھا۔قدرتِ ایزدی نے خلافت مجھے ہی سپرد کر دی تو اب مسیح موعود علیہ السلام کے احکام کے ماتحت میرا ہی حکم ماننا ضروری تھا اور میں نے حالاتِ وقت کے ماتحت مناسب فیصلہ کر دیا۔ایک خلیفہ کا حکم اُسی وقت تک چلتا ہے جب تک وہ زندہ ہو۔اُس کے بعد جو ہو اُس کا حکم ماننے کے قابل ہے۔یہ مسئلہ آپ نے نیا نکالاہے کہ ہر ایک خلیفہ کا حکم ہمیشہ کے لئے قابلِ عمل ہے یہ درجہ تو صرف انبیاء کو حاصل ہے کہ ان کے احکام اس وقت تک جاری رہتے ہیں۔جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی پا کر کوئی نیا نبی انہیں منسوخ نہ کرے۔خلفاء کی یہ حیثیت تو صرف آپ کی ایجاد ہے صحابہ ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم میں سے ہر ایک کے فرمانبردار تھے۔لیکن ان میں سے ہر ایک بعد میں آنے والے نے اپنے سے پہلے کے چند احکام کو منسوخ کیا یا بعض انتظامات کو بدل دیا لیکن کسی صحابی نے نہ کہا کہ ہم تو پہلے کے فرمانبردار ہیں اس لئے آپ کا حکم نہ مانیں گے۔حضرت عمرؓ نے خالدؓ کو جو حضرت ابوبکرؓ کے مقرر کردہ سپہ سالار تھے معزول کر دیا۔ان پر کسی نے اعتراض نہ کیا کہ حضرت! آپ تو ابوبکرؓ کی بیعت کر چکے ہیں ان کے مقرر کردہ کمانڈر کو کیوں معزول کرتے ہیں۔اے کاش! کہ ہر اعتراض کے پیش کرنے سے پہلے یہ غور بھی کر لیا جایا کرے کہ ہم کیسی بے وقعت باتوں سے اپنے دعوے کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔پھر سنئے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کوئی ایسا اعتراض نہیں ہونے دیا جو پہلوں پر نہ پڑتا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر جو پہلا اجلاس مجلس معتمدین کا ہوا تھا اور جس میں آپ بھی شریک تھے اس میں مولوی محمد علی صاحب کی ایک تحریک پیش ہو کر جو فیصلہ ہوا اُس کے الفاظ یہ ہیں۔’’درخواست مولوی محمد علی صاحب کہ کچھ مساکین کا کھانا حضرت اقدس نے لنگرخانہ سے بند کر کے ان میں سے بعض کے لئے لکھا ہے کہ مجلس انتظام کرے۔پیش ہو کر قرار پایا کہ اب حسبِ احکام حضرت خلیفۃ المسیح الموعود علیہ السلام لنگر کی حالت دگرگوں ہوگئی ہے اس لئے اس کاغذ کو